اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے پنجاب ریسکیو 1122 ملازمین کے سروس سٹرکچر سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کے پاس ان ملازمین کے مقدمات سننے کا اختیار نہیں تھا۔کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین پبلک سرونٹس ہیں …
ریسکیو 1122 ملازمین سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے پنجاب ریسکیو 1122 ملازمین کے سروس سٹرکچر سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کے پاس ان ملازمین کے مقدمات سننے کا اختیار نہیں تھا۔کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین پبلک سرونٹس ہیں تاہم ان پر سول سرونٹس کے قواعد لاگو نہیں ہوتے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریسکیو ملازمین اپنے سروس سے متعلقہ معاملات اور دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق سروس ٹریبونل کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ثنا اللہ پیش ہوئے ۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔








