سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جب کسی تنازع کا فیصلہ متعلقہ ریونیو فورمز پر میرٹ کی بنیاد پر ہو چکا ہو اور تمام دستیاب قانونی فورمز سے رجوع بھی کر لیا گیا ہو تو فریق دوبارہ اسی معاملے پر سول عدالت سے رجوع نہیں کر سکتا، الا یہ کہ دائرہ اختیار کی کوئی خرابی یا بدنیتی ثابت کی جائے
ریونیو فورمز سے فیصلہ ہونے کے بعد سول عدالت سے دوبارہ رجوع نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جب کسی تنازع کا فیصلہ متعلقہ ریونیو فورمز پر میرٹ کی بنیاد پر ہو چکا ہو اور تمام دستیاب قانونی فورمز سے رجوع بھی کر لیا گیا ہو تو فریق دوبارہ اسی معاملے پر سول عدالت سے رجوع نہیں کر سکتا، الا یہ کہ دائرہ اختیار کی کوئی خرابی یا بدنیتی ثابت کی جائے۔تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ضلع لیہ کی 200 کنال اراضی سے متعلق سول اپیل نمبر 1495 آف 2017 کا فیصلہ سناتے ہوئے زفر حسین خان (مرحوم) کے قانونی ورثاکی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایک مرتبہ کسی فریق کی جانب سے مخصوص فورم کے انتخاب کے ذریعے دائرہ اختیار استعمال کر لیا جائے تو ’’ڈاکٹرائن آف الیکشن‘‘ بھی لاگو ہوتی ہے، جس کے بعد اسی تنازع پر متبادل فورم سے دوبارہ ریلیف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔مقدمے کے مطابق موضع سمرا تھل کلاں جنوبی، تحصیل چوبارہ، ضلع لیہ میں واقع 200 کنال اراضی کی مالک مرحومہ پروین بتول تھیں۔ اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ مرحومہ نے 29 دسمبر 1996 کو مذکورہ اراضی اپنے بیٹے زفر حسین خان کے نام بطور ہبہ منتقل کر دی تھی۔ریکارڈ کے مطابق انتقالِ ہبہ کو مرحومہ فرحانہ الماس نے ریونیو حکام کے سامنے چیلنج کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر اور کمشنر نے ہبہ برقرار رکھا، تاہم ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 16 جنوری 2002 کو انتقال منسوخ کرنے کا حکم دیا۔اس فیصلے کے خلاف دائر سول دعویٰ ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا، جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریونیو فورمز کے فیصلوں کے بعد سول عدالت سے رجوع کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں تھی کیونکہ اپیل کنندگان نہ تو کسی قانونی دائرہ اختیار کی خرابی ثابت کر سکے اور نہ ہی بدنیتی کا کوئی ثبوت پیش کر سکے۔ عدالت عظمیٰ نے ان وجوہات کی بنا پر اپیل مسترد کر دی۔








