اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز اور ان کی بیوائوں کو تاحیات سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ ججوں کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق ایک خط سیکرٹری وزارت داخلہ حکومت پاکستان اسلام آباد کو بھیجا گیا تھا۔ یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججوں کی بیواؤں کی حد تک اپنے سکیورٹی …
ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کی حد تک سکیورٹی پروٹوکول پر نظرثانی کی گئی ہے، وزارت داخلہ کو بھیجے گئے خط میں ان کی شمولیت نادانستہ تھی ، سپریم کورٹ کا وضاحتی بیان

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز اور ان کی بیوائوں کو تاحیات سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ ججوں کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق ایک خط سیکرٹری وزارت داخلہ حکومت پاکستان اسلام آباد کو بھیجا گیا تھا۔ یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججوں کی بیواؤں کی حد تک اپنے سکیورٹی پروٹوکول پر نظرثانی کی ہے کیونکہ وزارت داخلہ کو بھیجے گئے مذکورہ خط میں ان کی شمولیت نادانستہ تھی۔
منگل کو سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بیواؤں کا حوالہ واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ وہ 2018 کے صدارتی حکم نمبر 7 کے تحت نہیں آتےتاہم اس بات کی توثیق کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز 2018 کے صدارتی حکم نمبر 7 اور قابل اطلاق قوانین اور پروٹوکول کے مطابق تاحیات سکیورٹی کے حقدار ہیں،یہ استحقاق ان کے ماضی کے عہدے کی حساس نوعیت اور اس کے ساتھ مسلسل سیکورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔







