زرعی شعبہ میں بہتری کے لئے پاکستان کی زرعی یونیورسٹیوں کے ماہرین اور سینئر پارلیمنٹرینز سے بھی زراعت کے حوالے سے خصوصی کمیٹی میں تجاویز لے رہے ہیں‘ آئندہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زراعت پر جامع بحث کرائی جائے گی،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں بہتری کے لئے پاکستان کی زرعی یونیورسٹیوں کے ماہرین اور سینئر پارلیمنٹرینز سے بھی زراعت کے حوالے سے خصوصی کمیٹی میں تجاویز لے رہے ہیں‘ آئندہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زراعت پر جامع بحث کرائی جائے گی جبکہ اراکین نے کہا ہے کہ تحقیق ‘ بیج اور پانی پر …

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں بہتری کے لئے پاکستان کی زرعی یونیورسٹیوں کے ماہرین اور سینئر پارلیمنٹرینز سے بھی زراعت کے حوالے سے خصوصی کمیٹی میں تجاویز لے رہے ہیں‘ آئندہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زراعت پر جامع بحث کرائی جائے گی جبکہ اراکین نے کہا ہے کہ تحقیق ‘ بیج اور پانی پر خصوصی توجہ دے کر ہم زرعی شعبہ میں اپنے پڑوسی ممالک سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی میں غوث بخش مہر نے زراعت پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہماری آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس شعبہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سندھ کو درست وقت میں فصلوں کے لئے پانی نہیں ملتا۔ سندھ میں بھل صفائی نہیں ہوتی۔ لیفٹ بنک کینال کا منصوبہ مکمل نہیں کیا جارہا۔ پیپلز پارٹی کے رکن نواب یوسف تالپور نے کہا کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ زراعت پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ زراعت کے لئے ریسرچ‘ بیج اور پانی تین اہم عنصر ہیں۔ ہم نے پی پی کے دور میں ڈیڑھ لاکھ روپے میں کاشتکار کو ٹریکٹر دیئے۔ مارکیٹ میں قیمت ڈھائی سے تین لاکھ تھی۔ اس اقدام سے کاٹن کی فصل بڑھی۔ پاکستان میں کاشتکار خطے کے دیگر ممالک سے ہر طرح سے مقابلہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے بھی پانی‘ کھاد اور سبسڈی دی جائے۔ کاشتکار کو اجازت ہونی چاہیے کہ اوپن مارکیٹ تک جائے۔ سپیکر نے کہا کہ زرعی خصوصی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ تمام زرعی یونیورسٹیوں کو بھی اس میں شامل کر رہے ہیں۔ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لئے سینئر پارلیمنٹریز کے تجربات سے استفادہ کریں۔

مزید خبریں