فیصل آباد۔ 18 فروری (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے ملک میں پہلی مرتبہ ملٹی فنکشنل ویجیٹیبل نرسری ٹرانسپلانٹر تیار کر لیا ہے جو زرعی لاگت میں کمی، پیداوار میں اضافے اور منافع بخش زراعت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ یہ مشین پارب پراجیکٹ کے تحت تیار کی گئی ہے جس کے پراجیکٹ مینیجر ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ ریسرچ سنٹر ڈاکٹر محمد زمان ہیں جبکہ ایڈیشنل …
زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے زرعی لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافے کیلئے پہلا ملٹی فنکشنل ویجیٹیبل نرسری ٹرانسپلانٹر تیار کر لیا

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 فروری (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے ملک میں پہلی مرتبہ ملٹی فنکشنل ویجیٹیبل نرسری ٹرانسپلانٹر تیار کر لیا ہے جو زرعی لاگت میں کمی، پیداوار میں اضافے اور منافع بخش زراعت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ یہ مشین پارب پراجیکٹ کے تحت تیار کی گئی ہے جس کے پراجیکٹ مینیجر ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ ریسرچ سنٹر ڈاکٹر محمد زمان ہیں جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر میکنائزیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ انجینئر شہزاد احمد ٹیم لیڈر ہیں۔ اس سلسلے میں واٹر مینجمنٹ ریسرچ سنٹر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ”ملٹی فنکشنل ویجیٹیبل نرسری ٹرانسپلانٹر” کی عملی نمائش اور آگاہی کے لیے فارمرز ڈے کا انعقاد کیا گیا۔ڈاکٹر محمد زمان نے مشین کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ مکینائزڈ ٹرانسپلانٹنگ مؤثر آبی انتظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پودوں میں مناسب فاصلہ اور آبپاشی کا بہتر نظام غذائی اجزاء کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے تناظر میں ایسی جدتیں پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں۔
چیئرمین اریگیشن ڈاکٹر محمد عدنان شاہد نے پانی کی کمی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مؤثر آبپاشی نظام اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بکٹ اریگیشن چھوٹے کاشتکاروں کے لیے کم لاگت اور عملی حل فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے پانی کم سے کم ضیاع کے ساتھ جڑوں تک پہنچتا ہے۔ سابق وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر رائے نیاز نے کہا کہ اسمارٹ ڈرِپ اریگیشن سینسرز اور آٹومیشن کے ذریعے فصل کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرتی ہے جبکہ اسمارٹ گن اریگیشن بڑے رقبوں پر یکساں پانی کی فراہمی یقینی بناتی ہے۔ انجینئر شہزاد احمد نے کہا کہ تیار کردہ ٹرانسپلانٹر مقامی زمینی حالات اور کاشتکاروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مشین ایک ہی مرحلے میں متعدد افعال انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اُن کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف عملی اخراجات میں کمی لائے گی بلکہ پودوں کی بقا کی شرح اور کھیت کی مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری کا باعث بنے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ سجاد نے بھی خطاب کیا۔








