سپریم کورٹ نے ایس اے پی ایس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تمام بندرگاہیں و ایئرپورٹ آپریٹرز بشمول ٹرمینل آپریٹرز تاخیری و ڈیٹنشن سرٹیفکیٹ (ڈیلے اینڈ ڈیٹینشن سرٹیفیکیٹ ) کو لازمی طور پر تسلیم کرنے اور متعلقہ امپورٹرز یا ایکسپورٹرز کو ڈیمرج چارجز واپس کرنے کے پابند ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے میں کہا گیاہے کہ یہ …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تمام بندرگاہیں و ایئرپورٹ آپریٹرز بشمول ٹرمینل آپریٹرز تاخیری و ڈیٹنشن سرٹیفکیٹ (ڈیلے اینڈ ڈیٹینشن سرٹیفیکیٹ ) کو لازمی طور پر تسلیم کرنے اور متعلقہ امپورٹرز یا ایکسپورٹرز کو ڈیمرج چارجز واپس کرنے کے پابند ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے میں کہا گیاہے کہ یہ فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے شاہین ایئرپورٹ سروسز (ایس اے پی ایس) کی جانب سے دائر اپیل میں سنایا جس میں میسرز یاسر ٹریڈرز، آرمز اینڈ ایمونیشن ڈیلرز اینڈ امپورٹرز پشاور فریق مخالف تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 14A (2) کے تحت اگر کسٹمز کا افسر (کم از کم اسسٹنٹ کلیکٹر کے درجے کا) تاخیر اور ڈیٹنشن سرٹیفکیٹ جاری کر دے کہ تاخیر امپورٹر کی غلطی سے نہیں ہوئی، تو ٹرمینل آپریٹرز کو لازمی طور پر ایسے سرٹیفکیٹ کو "انٹرٹین” یعنی قبول اور اس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ “انٹرٹین” کا مطلب صرف درخواست وصول کرنا نہیں بلکہ اس پر کارروائی کرنا اور موثر نتیجہ دینا ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر کوئی پورٹ یا ٹرمینل آپریٹر ایسے سرٹیفکیٹ کو ماننے سے انکار کرے تو یہ قانونی خلاف ورزی ہو گی اور اس پر سیکشن 156(1)(7A) کے تحت سزا یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔جسٹس محمد شفیع صدیقی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون کے تحت تاخیری و ڈیٹنشن سرٹیفکیٹ پر عملدرآمد پورٹ اتھارٹیز کے لیے ایک لازمی (منڈیٹوری) ذمہ داری ہے، اس میں کسی قسم کی صوابدید یا رعایت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے ایس اے پی ایس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس میں یاسر ٹریڈرز کے حق میں حکم دیا گیا تھا کہ ان سے تاخیر کے باعث ڈیمرج چارجز وصول نہ کیے جائیں۔