سپریم کورٹ نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کی بنیاد پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے درخواست گزار غلام علی کی اپیل منظور کر لی۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیاجس میں کہا گیا ہے کہ زبانی معاہدوں …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کی بنیاد پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے درخواست گزار غلام علی کی اپیل منظور کر لی۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیاجس میں کہا گیا ہے کہ زبانی معاہدوں سے متعلق مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا۔ فیصلے کے مطابق 1992 کا مبینہ زبانی معاہدہ قانون کے تقاضوں کے مطابق ثابت نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ زبانی معاہدہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی مکمل تفصیل پیش کرنا لازمی ہے، جبکہ عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد صلح ہوئی تھی۔

دعویٰ کیا گیا کہ جرگے میں یہ فیصلہ ہوا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دے گا اور صلح کے بعد زمین کا قبضہ بھی ان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مدعیان کے مطابق 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔کیس کے پس منظر میں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا تھا، تاہم اپیل میں مخصوص کارکردگی (اسپیسفک پرفارمنس) کا دعویٰ منظور کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زبانی معاہدے کے دعوے کو ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ایسے دعوے قانونی طور پر برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔