شادی کسی بیٹی کو اپنے والدین کے سرکاری کوٹے کے تحت نوکری کے حق سے محروم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ شادی کسی بیٹی کو اپنے والدین کے سرکاری کوٹے کے تحت نوکری کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ شادی شدہ بیٹی کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو شادی شدہ بیٹے کو حاصل ہوتے ہیں اور اس بنیاد پر ملازمت سے انکار آئین، قانون اور خواتین کے مساوی حقوق کے منافی …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ شادی کسی بیٹی کو اپنے والدین کے سرکاری کوٹے کے تحت نوکری کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ شادی شدہ بیٹی کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو شادی شدہ بیٹے کو حاصل ہوتے ہیں اور اس بنیاد پر ملازمت سے انکار آئین، قانون اور خواتین کے مساوی حقوق کے منافی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے فرخ ناز بنام سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کیس میں تحریر کیا۔

کیس میں درخواست گزار فرخ ناز کی تقرری بطور پرائمری سکول ٹیچر منسوخ کر دی گئی تھی کیونکہ وہ شادی شدہ تھیں۔ عدالت نے اس فیصلے کو غیر قانونی اور امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے بحال کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریٹائرمنٹ یا وفات پانے والے سرکاری ملازم کے بچوں کے لیے مختص کوٹہ دراصل ریاست کی طرف سے متاثرہ خاندان کی مالی مدد اور والدین کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس لیے بیٹے یا بیٹی کی شادی اس حق کو متاثر نہیں کرتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ "شادی عورت کی شخصیت یا اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں کرتی،” اور اسے کسی طور پر ملازمت کے لیے نااہل قرار دینا آئین کے آرٹیکلز 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایک شادی شدہ عورت کو والدین پر ’بوجھ‘ یا ’ذمہ داری‘ قرار دینا انتہائی توہین آمیز اور غیر آئینی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے مزید لکھا کہ عورت کو کام کرنے یا گھر پر رہ کر خاندان کی دیکھ بھال کرنے کا اختیار دونوں صورتوں میں باعزت ہے۔ قانون اسے اس کی مرضی کے خلاف محدود نہیں کر سکتا۔فیصلے میں قرآنی تعلیمات، آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی معاہدات خصوصاً خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کا کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) اور بیجنگ ڈیکلریشن 1995ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام نے عورت کو ایک خود مختار، باعزت اور مساوی انسان کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومتِ خیبر پختونخوا کے وہ تمام سرکاری خطوط بھی کالعدم قرار دے دیئے جن میں شادی شدہ بیٹیوں کو اس کوٹے سے خارج کیا گیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ بیٹی کی شادی اسے اپنے والدین کے خاندان سے الگ نہیں کرتی۔ اگر بیٹے کی شادی اس کے حق کو ختم نہیں کرتی تو بیٹی کی شادی بھی ایسا اثر نہیں ڈال سکتی۔ عورت بھی مرد کی طرح برابر شہری ہے اور اسے مساوی مواقع دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔