عید الاضحیٰ پر اسٹیٹ بینک کی’’گو کیش لیس‘‘مہم کامیاب، ڈیجیٹل لین دین میں زبردست اضافہ

بینک دولتِ پاکستان نے عید الاضحیٰ 2026ء کے دوران ملک بھر میں ’’گو کیش لیس‘‘ مہم کا آغاز کیا تھا، تا کہ ملک بھر کی 123 مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مہم کے دوران 34 ارب روپے سے زائد مالیت کی 480,000 ٹرانزیکشنز کی گئیں۔

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):بینک دولتِ پاکستان نے عید الاضحیٰ 2026ء کے دوران ملک بھر میں ’’گو کیش لیس‘‘ مہم کا آغاز کیا تھا، تا کہ ملک بھر کی 123 مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مہم کے دوران 34 ارب روپے سے زائد مالیت کی 480,000 ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق 2024ء اور 2025ء میں کیے گئے اسی طرح کے اقدامات کی کامیابی کے بل بوتے پر 2026ء میں اس مہم میں خاصی توسیع کی گئی، اور اس کا دائرہ کار پاکستان بھر میں 2025ء کی 54 مویشی منڈیوں سے بڑھ کر 2026ء میں 123 مارکیٹوں تک پھیل گیا۔’’گو کیش لیس‘‘ مہم کے تحت 22 شریک بینکوں نے مقررہ مویشی منڈیوں میں خریداروں اور فروخت کاروں کو بلاتعطل ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سہولت دینے کے لیے خصوصی کیمپ اور کیبن قائم کیے۔

ان بینکوں نے مویشی بیچنے والوں، ٹرانسپورٹروں اور منسلک خدمات دینے والوں کو فوری بایومیٹرک توثیق کے ذریعے آن بورڈ لیا، جن کا انعقاد مارکیٹوں ہی کے اندر کیا گیا، انہیں کیو آر کوڈز فراہم کیے گئے تا کہ وہ ڈجیٹل ادائیگیوں کی وصولی کے قابل ہو سکیں۔ مزید برآں، منتخب مویشی منڈیوں میں موبائل بینکاری کی گاڑیاں موجود تھیں، جو اے ٹی ایم، کیش کاؤنٹرز اور کیش ڈپازٹ مشینوں (سی ڈی ایم) سے لیس تھیں تاکہ برمقام بینکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔نقد کاؤنٹرز اور سی ڈی ایم کی دستیابی سے بیوپاریوں کو فاضل نقد رقوم سہولت کے ساتھ بینکاری نظام میں براہ راست جمع کرانے کا موقع ملا، جس سے نقد کرنسی کی گردش میں کمی آئی اور ادائیگیوں کا زیادہ ڈجیٹائزڈ ماحول بنانے میں مدد ملی۔ ان منڈیوں میں اسٹیٹ بینک کے اہلکاروں کو بھی تعینات کی گیا تھا، تا کہ بینکوں اور ان کے عملے کوسہولت دی جا سکے اور اگر کوئی مسئلہ پید اہو تو اسے فوراً حل کیا جا سکے۔ مویشی بیچنے والے بیوپاریوں اور بلند مالیت کے لین دین میں اعانت کے لیے اسٹیٹ بینک نے 14 مئی 2026ء تا 5 جون 2026ء کی مدت کے لیے ٹرانزیکشنز کی حد میں عارضی اضافہ کیا۔

اسٹیٹ بینک نے اس مہم کے لیے ایک جامع ملک گیر آگاہی اور رسائی کی مہم شروع کی ، جس کی تشہیر ٹیلی وژن، ریڈیو ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر کی گئی جبکہ بینکوں کی آگاہی سرگرمیاں بھی اس کا حصہ تھیں۔ اسٹیٹ بینک اور بینکوں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ڈیجیٹل لین دین کے حجم اور مالیت دونوں میں خاصا اضافہ ہوا۔ 2025ء کے مقابلے میں 2026ء کے دوران ٹرانزیکشنوں کی تعداد سات گنا سے زیادہ بڑھ گئی اور تقریباً 65 ہزار سے بڑھ کر 4 لاکھ 81 ہزار ٹرانزیکشن تک پہنچ گئی، جبکہ لین دین کی جو مالیت گذشتہ سال 4.6 ارب روپے تھی، وہ اِس سال بڑھ کر 34 ارب روپے تک جا پہنچی۔

مزید برآں، مہم کے دوران مویشی کے بیوپاریوں اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے والوں کے تقریباً 12,500 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے۔ یہ اضافہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس ہے اور اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کے نتائج کو بھی ظاہر کرتا ہے جو نقد رقم پر انحصار کرنے والے معیشت کے روایتی شعبوں کو ڈجیٹل بنانے کے لیے جاری ہیں۔اس مہم کی کامیابی نے ڈجیٹل مالی خدمات پر اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے اور پاکستان بھر میں موسمی اور زیادہ حجم والے بازاروں میں محفوظ، موثر اور شمولیتی ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولتوں کے پائیدار فروغ اور انہیں مستقل طور پر اپنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

 

مزید خبریں