غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی اپنی سرزمین سے جبری ہجرت کو قبول نہیں کیا جا سکتا،عرب لیگ

قاہرہ۔13فروری (اے پی پی):عرب لیگ نے کہا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ان کی سرزمین سے جبری ہجرت کو عرب دنیا میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیث نے گزشتہ روز دبئی میں حکومتوں کے عالمی سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔العربیہ اردو …

قاہرہ۔13فروری (اے پی پی):عرب لیگ نے کہا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ان کی سرزمین سے جبری ہجرت کو عرب دنیا میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیث نے گزشتہ روز دبئی میں حکومتوں کے عالمی سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔العربیہ اردو کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ اس کا مقصد تاریخی فلسطین سے اس کی اصل آبادی کو نکالنا ہے جس کو عرب دنیا میں قبول نہیں کیا جا سکتا، فلسطینیوں نے 100 برس تک مزاحمت کی ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینیوں کو ہر چیز سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ ابو الغیث نے باور کرایا کہ ٹرمپ یا کوئی بھی اور فریق غزہ کو خرید نہیں سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی سرزمین کے حوالے سے عرب دنیا کی طرف سے کوئی دستبرداری نہیں ہو گی، عرب ممالک دو ریاستی حل پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ کو دوبارہ پیش کیا تو اس کو بھی مسترد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی عرب سربراہ اجلاس میں ایک عرب تجویز زیر بحث لائے جائے گی جو ٹرمپ کی تجویز کے مقابل ہو۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ عرب تجویز فلسطینی موافقت کے مطابق عرب اور بین الاقوامی حمایت سے سامنے لائی جائے گی، فلسطینی موافقت کے بغیر کوئی حل نہیں ہو گا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطین تنازعہ کے حوالے سے سعودی عرب کی قیادت کا موقف تاریخی اور ثابت قدم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عرب اسرائیلی تنازع کی تاریخ میں نہایت خطرناک مقابلے کے دور سے گزر رہے ہیں،غزہ معاہدے کے ٹوٹ جانے میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا اپنا مفاد ہے ۔