اقوام متحدہ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کہا ہے کہ جنگ سے تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لئے 53 بلین ڈالر جبکہ پہلے تین سالوں میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے جنرل اسمبلی کی درخواست پر تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی …
غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لئے 53 بلین ڈالر درکار ہیں،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کہا ہے کہ جنگ سے تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لئے 53 بلین ڈالر جبکہ پہلے تین سالوں میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے جنرل اسمبلی کی درخواست پر تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی بحالی اور تعمیر نو کے لئے درکار رقم کا تخمینہ 53.142 بلین ڈالر لگایا گیا ہے ۔
گزشتہ روز شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ موجودہ تناظر میں غزہ کی پٹی میں درکار ضروریات کی حد کا مکمل جائزہ لینا ممکن نہیں لیکن تیز رفتار عبوری تشخیص غزہ کی پٹی میں بحالی اور تعمیر نو کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ضروریات کا ابتدائی اشارہ فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 60 فیصد سے زیادہ مکانات تباہ ہونے کے بعد ہاؤسنگ سیکٹر کو تعمیر نو کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد یا 15.2 بلین ڈالر درکار ہوں گے، تجارت اور صنعت کے شعبے کے لیے 6.9 ، صحت کے شعبے کی بحالی کے لیے6.9 ، زراعت کے لیے4.2 ،سماجی تحفظ کے لیے4.2 ، ٹرانسپورٹ کے لیے2.9 ، پانی اور صفائی کے شعبے کے لیے 2.7 اور تعلیم کے شعبے کے لیے 2.6 بلین ڈالر درکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس تنازعے نے اپنے پیچھے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ چھوڑا ہے
جس میں انسانی باقیات کے ساتھ ساتھ نہ پھٹنے والے ہتھیار، ایسبیسٹوس اور دیگر خطرناک مواد بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ دسمبر میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سیکرٹری جنرل سے کہا تھا کہ وہ2 ماہ کے اندر فلسطینی علاقے کی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی ضروریات کا جائزہ پیش کریں۔








