فرانسیسی سینیٹ نے ثقافتی نوادرات کی واپسی کا بل منظور کرلیا
فرانسیسی سینیٹ نے ثقافتی نوادرات کی واپسی کا بل منظور کرلیا

مزید خبریں
پیرس۔8مئی (اے پی پی):فرانسیسی سینیٹ نے ثقافتی نوادرات کی واپسی کا بل منظور کرلیا۔شنہوا کے مطابق فرانسیسی سینیٹ نے غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے ثقافتی نوادرات کی واپسی سے متعلق ایک اہم بل منظور کرلیا ہے۔ بل کے حق میں 343 ووٹ ڈالے گئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ سامنے نہیں آیا۔یہ مسودۂ قانون اس سے قبل فرانس کی قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوچکا تھا، جہاں اسے 141 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
بل کا مقصد ان ثقافتی اشیا کی واپسی کے لیے ایک واضح اور آسان قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے جو فرانس نے غیر قانونی ذرائع، لوٹ مار، چوری یا دباؤ کے تحت فروخت کے ذریعے حاصل کی تھیں۔ قانون کا اطلاق 1815 سے 1972 کے درمیان حاصل کی گئی ثقافتی اشیا پر ہوگا، تاہم فوجی سامان اور بعض آثارِ قدیمہ کی اشیا اس میں شامل نہیں ہوں گی۔
فرانس کے موجودہ قانون کے تحت سرکاری ثقافتی ذخائر کو ناقابلِ منتقلی تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث اب تک نوادرات کی واپسی صرف مخصوص قوانین کے ذریعے محدود پیمانے پر ممکن تھی۔دونوں ایوانوں کے مختلف مسودوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،
جس نے 30 اپریل کو متفقہ متن پیش کیا۔فرانسیسی وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے سوشل میڈیا پر بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “یہ قانون تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے لیے نہیں بلکہ غلط طریقے سے حاصل کی گئی ثقافتی اشیا کی واپسی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے ہے۔








