فیفا نے 2026 ورلڈ کپ کو تاریخی کامیابی قرار دے دیا، شاندار مقابلوں نے شائقین کے دل جیت لیے

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل مہنگائی، جیو پولیٹیکل کشیدگی، سخت موسم اور 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث معیار کے گرنے

نیویارک۔19جولائی (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل مہنگائی، جیو پولیٹیکل کشیدگی، سخت موسم اور 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث معیار کے گرنے جیسے شدید خدشات کا شکار تھا، فٹ بال کی تاریخ کا مقبول ترین، سنسنی خیز اور یادگار ترین ایونٹ بن کر اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سپین کے درمیان شیڈول فائنل معرکے سے قبل ہی عالمی فٹ بال گورننگ باڈی (فیفا ) اس ٹورنامنٹ کو اپنی ایک عظیم الشان کامیابی قرار دے چکی ہے کیونکہ اس بار ورلڈ کپ میں کھیل کا معیار گرنے کے بجائے افریقی جزیرے کیپ ورڈ جیسی چھوٹی ٹیموں نے فائنلسٹ سپین کو ڈرا پر روک کر اور ارجنٹائن کو کانٹے کا مقابلہ دے کر سحر انگیز ڈراما پیش کیا جبکہ مصر سمیت ریکارڈ 9 افریقی ممالک نے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ کر براعظم افریقاکے ابھرتے ہوئے شاندار مستقبل کا اعلان کیا۔ رواں ٹورنامنٹ میں دنیا کے عظیم ترین فٹ بالر لیونل میسی نے اپنے ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک سے آغاز کیا اور وہ اب تک 8 گولز کر چکے ہیں جبکہ فرانس کے کیلین ایمباپے 10 گولز کے ساتھ ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر اور مجموعی طور پر 22 گولز کے ساتھ ورلڈ کپ تاریخ کے سب سے کامیاب سکورر بن گئے ہیں، ان کے علاوہ ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ اور انگلینڈ کے جوڈ بیلنگہم نے 7، 7 گولز جبکہ ہیری کین نے 6 گولز داغ کر شائقین کے دل جیت لیے ہیں جس کی بدولت 103 میچوں میں ریکارڈ 307 گولز کے ساتھ یہ 1958 کے بعد تاریخ کا سب سے زیادہ گولز والا ورلڈ کپ بن گیا ہے۔ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کی مہنگی ترین قیمتوں کے باوجود دنیا بھر سے آئے لاکھوں شائقین نے سٹیڈیمز کا رخ کیا اور مجموعی طور پر 66 لاکھ 65 ہزار سے زائد تماشائیوں کی آمد نے 2018 اور 2022 کے ٹورنامنٹس کا مشترکہ ریکارڈ بھی توڑ دیا جبکہ سٹیڈیمز میں حاضری کی شرح 99.7 فیصد رہی جس کے باعث امریکا اور دیگر میزبان ممالک کے شہر راتوں رات ایک بڑے جشن اور کارنیول میں تبدیل ہو گئے۔ اس ایونٹ نے جہاں امریکا کے لیے عالمی سطح پر مثبت تاثر قائم کیا وہاں چند بڑے تنازعات نے بھی اس پر اثر ڈالا جن میں صومالیہ کے ریفری عمر آرتان کو امریکی امیگریشن قوانین کے تحت انٹری نہ ملنا، ایرانی ٹیم پر ویزا پابندیاں اور سب سے بڑا سکینڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سٹرائیکر فولارین بالوگن کی ایک میچ کی پابندی کو مؤخر کرانے کے لیے فیفا صدر جیانی انفانٹینو پر ذاتی دباؤ ڈالنا شامل تھا جس کے بعد بیلجیم کے ہاتھوں امریکا کی 1-4 سے شکست پر فٹ بال شائقین نے خوشی کا اظہار کیا۔ ان تمام تر سیاسی تنازعات کے باوجود فیفا صدر انفانٹینو کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے اور ایشیا، افریقااور جنوبی امریکا کی کنفیڈریشنز کی حمایت کے بعد اب وہ اس شاندار کامیابی کی بنیاد پر 2030 کے ورلڈ کپ کو 64 ٹیموں تک وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔