قومی ٹیم کی ہر کامیابی عید کی خوشیوں سے کم نہیں تھی،پرستاروںو کرکٹ حکام کی محبت کا شکریہ،چاچا کرکٹ

پاکستان کرکٹ کے سب سے مقبول، رنگین اور وفادار سپورٹر چاچا کرکٹ المعروف عبدالجلیل کل 4 جون کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے اور ون ڈے سیریز کے فیصلہ کن میچ کے بعد اپنی نصف صدی سے زائد پر محیط شاندار کرکٹ وابستگی کو خیرباد کہہ دیں گے

لاہور۔3جون (اے پی پی):پاکستان کرکٹ کے سب سے مقبول، رنگین اور وفادار سپورٹر چاچا کرکٹ المعروف عبدالجلیل کل 4 جون کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے اور ون ڈے سیریز کے فیصلہ کن میچ کے بعد اپنی نصف صدی سے زائد پر محیط شاندار کرکٹ وابستگی کو خیرباد کہہ دیں گے۔ سبز لباس، قومی پرچم اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ دنیا بھر کے کرکٹ میدانوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 77 سالہ چاچا کرکٹ کی ریٹائرمنٹ پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہوگی۔ عبدالجلیل عرف چاچا کرکٹ نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آنکھوں کے آپریشن اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے انہیں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لینا پڑ رہا ہے،وہ کرکٹ سے ریٹائر ضرور ہورہے ہیں لیکن ان کی دعائیں اور سپورٹ ہمیشہ پاکستان ٹیم کے ساتھ رہیں گی ۔وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کرکٹرز اورپرستاروں کی خوشیوں کے فنکشنز میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی اور انٹرنیشنل سطح پرہونے والے میچز کے دوران پرستاروں نے اور کرکٹ حکام نے مجھے بہت محبت دی اور سپورٹ کیا اس کو میں ساری زندگی فراموش نہ کرسکوں گا، قومی ٹیم کی ہر کامیابی عید کی خوشیوں سے کم نہیں تھی۔قذافی سٹیڈیم میں ہونے والے گزشتہ میچ کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے چاچا کرکٹ کو ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ، چاچا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ، قومی کرکٹرز اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پاکستان کرکٹ کے نام کیا، اب وقت آگیا ہے کہ نئی نسل اس روایت کو آگے بڑھائے اور قومی ٹیم کی اسی جذبے اور محبت سے حمایت کرے۔ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالجلیل سیالکوٹ کے قریب ایک منفرد ریسٹورنٹ اور کرکٹ میوزیم قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں ان کے طویل کرکٹ سفر سے وابستہ نایاب تصاویر، ٹکٹیں، جرسیز اور دیگر یادگار اشیا محفوظ کی جائیں گی تاکہ آنے والی نسلیں پاکستان کرکٹ کی تاریخ اور اس کے سنہری لمحات سے آگاہ ہو سکیں۔

عبدالجلیل نے 1968-69 میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے اپنے کرکٹ سفر کا آغاز کیا تھا اور پھر وہ پاکستان کرکٹ کی ایسی پہچان بن گئے جنہیں شارجہ سے لے کر لندن اور میلبورن تک ہر بڑے سٹیڈیم میں قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے دیکھا گیا۔ 1999 ورلڈ کپ سمیت کئی عالمی مقابلوں میں ان کی موجودگی پاکستانی شائقین کے جذبے کی علامت سمجھی جاتی رہی۔چاچا کرکٹ نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کرکٹ کے کئی سنہری لمحات دیکھے، جن میں 1986 میں جاوید میانداد کا تاریخی چھکا، 1992 ورلڈ کپ کی تاریخی فتح اور 2017 چیمپئنز ٹرافی کی شاندار کامیابی شامل ہیں۔امید ہے کل ہونیوالے فیصلہ کن میچ میں سٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین اس عظیم سپورٹر کو پرجوش انداز میں الوداع کہیں گے، توقع ہے کہ میچ کے اختتام پر پورا سٹیڈیم تالیوں، نعروں اور محبت بھرے جذبات کے ساتھ چاچا کرکٹ کے تاریخی سفر کو سلام پیش کرے گا۔ ان کی ریٹائرمنٹ ایک عہد کے اختتام کی علامت ضرور ہے، لیکن پاکستان کرکٹ سے ان کی محبت ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گی۔