اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):مسلم انسٹیٹیوٹ اور باکو انٹرنیشنل ملٹی کلچرل ازم سینٹر کے زیر اہتمام اسلام آباد میں" آذربائیجان۔پاکستان دوستی: یومِ فتح کا پانچواں جشن" کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ یہ تقریب آذربائیجان کی آرمینیا کے خلاف تاریخی فتح کے دن کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔سیمینار کے مقررین میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن سفارتخانہ آذربائیجان سمیر احمد علی، رئیر ایڈمرل (ر) سید فیصل علی شاہ، سابق …
مسلم انسٹیٹیوٹ اور باکو انٹرنیشنل ملٹی کلچرل ازم سینٹر کے زیر اہتمام ’’آذربائیجان۔پاکستان دوستی‘‘ کے عنوان سے یومِ فتح کی پانچویں سالگرہ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):مسلم انسٹیٹیوٹ اور باکو انٹرنیشنل ملٹی کلچرل ازم سینٹر کے زیر اہتمام اسلام آباد میں” آذربائیجان۔پاکستان دوستی: یومِ فتح کا پانچواں جشن” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ یہ تقریب آذربائیجان کی آرمینیا کے خلاف تاریخی فتح کے دن کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔سیمینار کے مقررین میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن سفارتخانہ آذربائیجان سمیر احمد علی، رئیر ایڈمرل (ر) سید فیصل علی شاہ، سابق ایکٹنگ سیکرٹری برائے خارجہ امور نائلہ چوہان، سابق ڈائریکٹر فارن سروس اکیڈمی ڈاکٹر طارق وحید اور مسلم انسٹیٹیوٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ آصف تنویر اعوان شامل تھے جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر عبدالباسط نے انجام دیئے۔
مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دوطرفہ تعلقات آذربائیجان کی اکتوبر 1991 میں سوویت یونین سے آزادی کے بعد قائم ہوئے تاہم دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی اور برادرانہ روابط صدیوں پرانے، مضبوط اور مستحکم ہیں، ان تعلقات کی بنیاد محض تہذیبی نہیں بلکہ روحانی اور ثقافتی یکسانیت پر بھی قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی خاص طور پر آرمینیا کی جارحیت، آذری عوام پر ظلم اور خوجالی میں نسل کشی کے واقعات کے خلاف عالمی سطح پر آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسی طرح آذربائیجان نے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔
مقررین کے مطابق بیسویں صدی میں نوگورنو کاراباخ کا تنازعہ ایک خونی باب تھا۔ستمبر 2020 میں آرمینیا کی جانب سے دوبارہ جارحیت کے بعد جنگ شروع ہوئی جو 40روز جاری رہی اور نومبر 2020 میں آرمینیا کو شکست تسلیم کرنا پڑی، یوں آذربائیجان نے تاریخی فتح حاصل کی۔ مقررین نے کہا کہ یہ فتح آذربائیجان کے عوام کے حوصلے، اتحاد اور جذبۂ آزادی کا مظہر تھی۔تقریب میں مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ شہداء کی یاد قوموں میں اتحاد اور عزم پیدا کرتی ہے اور ظالم کے بیانیے کو چیلنج کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر، فلسطین، غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جاری مظالم کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان تعلقات اسلامی اخوت اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ بغیر کسی مفاد کے آذربائیجان کے مؤقف کی غیر مشروط حمایت کی ہے، دونوں ممالک کو مستقبل میں تعلیم، تجارت، ثقافت اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی تعلقات مزید مستحکم ہو سکیں۔








