وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی پائیدار معاشی استحکام، جامع ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں منعقدہ سیمینار "پاکستان اکنامک آؤٹ لک: مالی سال 2027 اور اس کے بعد” سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
معاشی استحکام ، ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی حکومت کے معاشی ایجنڈے کا محور ہے، خرم شہزاد

مزید خبریں
لاہور ۔27جولائی (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی پائیدار معاشی استحکام، جامع ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں منعقدہ سیمینار "پاکستان اکنامک آؤٹ لک: مالی سال 2027 اور اس کے بعد” سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں ممتاز ماہرینِ معیشت، کاروباری شخصیات اور مالیاتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر علی حسنین، علی خضر اور خرم حسین بھی شامل تھے۔ خرم شہزاد نے گزشتہ دو سے تین برس کے دوران پاکستان کی معاشی بحالی، اہم معاشی اشاریوں میں بہتری اور مستقبل کی پالیسی ترجیحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شدید معاشی بحران اور بیرونی مالی دباؤ سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو منفی سطح سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی 2.89 فیصد رہی جو گزشتہ 25 برس کی اوسط سے زیادہ ہے، جبکہ بڑے صنعتی شعبے (LSM) نے چار برس کی بلند ترین 6.1 فیصد شرح نمو حاصل کی۔ خدمات کے شعبے میں بھی 4.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔خرم شہزاد نے بتایا کہ مالیاتی نظم و ضبط کے باعث مجموعی مالیاتی خسارہ نو ماہ کے دوران جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم سطح پر رکھا گیا، جبکہ 2022 میں 8 فیصد کے مقابلے میں اسے تقریباً 3 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف حاصل کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران پرائمری بیلنس تاریخی سرپلس میں رہا اور مجموعی قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد پر آگیا، جو ذمہ دارانہ مالیاتی پالیسی کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2022 کے 17.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 150 ملین ڈالر سے بھی نیچے آ گیا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 7.5 فیصد رہ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2023 کے آغاز میں تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو تین ماہ سے زائد درآمدات کے لیے کافی ہیں۔مشیر وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بیرونی قرضوں پر انحصار کے بجائے قدرتی مالی آمدن کے ذریعے ممکن ہوا، جبکہ مجموعی بیرونی سرکاری قرض تقریباً 100 ارب ڈالر پر مستحکم رہا۔
انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور ماہانہ اوسط آمد 300 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر جبکہ فری لانسرز کی آمدن 1.76 ارب ڈالر رہی۔ ان مثبت معاشی اشاریوں کے باعث عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر ‘B’ کر دی ہے اور آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت گیارہ اہم شعبوں میں ساختی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے تاکہ معیشت میں ریاستی مداخلت کم ہو اور آزادانہ مسابقت کو فروغ ملے۔ انہوں نے بتایا کہ 28 سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب بولی، فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (HBFC) اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے مراحل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے کے لیے کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ بجلی کی خریداری پر اجارہ داری ختم ہو۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں مکمل ڈیجیٹل اور فیس لیس نظام نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزارتوں کی رائٹ سائزنگ، پاسکو اور پی ڈبلیو ڈی جیسے غیر مؤثر اداروں کی بندش، سرکاری ملازمین کے پنشن نظام میں اصلاحات اور ٹیرف میں مرحلہ وار کمی جیسے اقدامات بھی جاری ہیں۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کی مالیاتی پالیسیاں نجی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 1.46 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جو سالانہ بنیاد پر 15 فیصد نمو ہے، جبکہ زرعی قرضوں کا حجم 2.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
ملکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک سال کے دوران 11 ابتدائی عوامی شیئرز (IPOs) متعارف ہوئے، جو گزشتہ 20 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ سالانہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن 43 ہزار سے تجاوز کر گئی۔انہوں نے بتایا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت نے بجٹ میں متعدد مراعات دی ہیں، جن میں 50 کروڑ روپے سے کم منافع والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ، ٹرن اوور ٹیکس کو کم کر کے 1.25 فیصد کرنا، آف پیک اوقات میں صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی جانب سے 4.5 فیصد رعایتی شرح پر ایکسپورٹ ری فنانس سہولت کی منظوری شامل ہے۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت دو اہم طویل المدتی پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہی ہے، جن میں جامع صنعتی پالیسی اور درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی شامل ہیں، تاکہ سرمایہ کاروں کو طویل المدتی پالیسی کا واضح اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کیا جا سکے۔
سیمینار کے سوال و جواب کے سیشن میں سماجی تحفظ، غربت کے خاتمے اور روزگار سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت مالیاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے وسائل میں اضافہ کر رہی ہے تاکہ معاشی تبدیلی کے دوران کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار روزگار، غربت میں مستقل کمی اور مضبوط معاشی ترقی کا انحصار نجی شعبے کو فروغ دینے، صنعتی مسابقت میں اضافے اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل پر ہے۔








