ملا معتصم کی گرفتاری نے افغان طالبان کے اندرونی اختلافات اور طاقت کی جنگ کو بے نقاب کر دیا ہے،سکیورٹی تجزیہ کار

طالبان کے بااثر رہنما ملا معتصم آغا جان کی حالیہ گرفتاری اور بعد ازاں رہائی نے افغان طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور طاقت کی جنگ کو اجاگر کر دیا ہے،

اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):طالبان کے بااثر رہنما ملا معتصم آغا جان کی حالیہ گرفتاری اور بعد ازاں رہائی نے افغان طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور طاقت کی جنگ کو اجاگر کر دیا ہے، جس سے تنظیم کے اندر گہرے اختلافات بے نقاب ہوگئے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ طالبان کی قیادت کے ڈھانچے میں نمایاں تنائو کی نشاندہی کرتا ہے۔ ملا معتصم جو پہلے قطر میں قائم شوریٰ کے رکن رہ چکے ہیں، کو سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے براہِ راست احکامات پر ان کی خصوصی یونٹ نے حراست میں لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق گرفتاری کی فوری وجہ ملا معتصم کے وہ ریمارکس تھے جو انہوں نے ملا برادر کے خلاف دیے، جن میں انہوں نے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے تھے جبکہ داخلی طور پر ان پر الزام تھا کہ وہ گروپ کے اندر تقسیم پیدا کر رہے ہیں اور اپنے حامی افراد کو مسلح کرنے میں ملوث ہیں۔ان کی گرفتاری کے بعد طالبان حکام نے قندھار اور کابل میں اپنے ہی ارکان کے گھروں اور ٹھکانوں پر چھاپے مارے تاکہ ان افراد کو غیر مسلح کیا جا سکے جن پر ان کے نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا شبہ تھا۔ اس کارروائی نے طالبان کے اندر عدم اعتماد کے ماحول کو اجاگر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ ملا معتصم کے حوالے سے دیرینہ شکوک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے، جنہیں ماضی میں غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے روابط کے الزامات کے باعث تنظیمی ڈھانچے سے نکال دیا گیا تھا،ایک ایسا پہلو جسے طالبان قیادت بیرونی قوتوں کیلئے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا خطرہ سمجھتی تھی۔اس کے باوجود انہیں ملا یعقوب کی جانب سے ان کے علاقائی روابط اور ملا عمر سے قریبی تعلق کی بنیاد پرافغانستان واپس لایا گیا۔ حالیہ رپورٹس انہیں ہیبت اللہ مخالف گروہوں، خاص طور پر کابل میں قائم قیادت کے دھڑوں سے جوڑتی ہیں۔طالبان کی جانب سے اس معاملے پر عوامی ردعمل میں معلومات کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی اورابتدا میں ملا معتصم کی گرفتاری کی مکمل تردید کی گئی تاہم بعد ازاں ایک غیر سرکاری موقف پیش کیا گیا جس میں اس حراست کو ایک کمانڈر کی غلط فہمی قرار دیا گیا، جسے بعد میں برطرف کر دیا گیا۔بالآخر حقانی نیٹ ورک کی مداخلت کے بعد ملا معتصم کو رہا کر دیا گیا اور اس فیصلے کو اندرونی مفاہمت کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے مزید کشیدگی اور تنظیم کے اندر گہرے اختلافات سے بچنے کے لیے ان کی رہائی کو ترجیح دی۔یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ طالبان کے اندر تقسیم کے خطرات بدستور موجود ہیں، جنہیں کنٹرول شدہ بیانیے اور محدود معلومات کے ذریعے چھپایا جا رہا ہے۔