صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ ماحولیات پر اپنے پیغام میں کیا۔
موسمیاتی تبدیلی صحتِ عامہ، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے بڑا چیلنج ہے، صدر آصف علی زرداری کا عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ ماحولیات پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شہریوں اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی سنگینی کو سمجھیں۔ صدر نے کہا کہ بڑھتا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، پگھلتے گلیشیئرز ، پانی کی قلت، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور ماحولیاتی انحطاط اب مستقبل کے نہیں بلکہ موجودہ وقت میں ہی دنیا بھر میں انسانی زندگیوں اور معیشتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ ماحولیات کا مرکزی موضوع موسمیاتی اقدام ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آج کئے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے معیارِ زندگی کا تعین کریں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، پاکستان موسمیاتی تغیر کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے حالانکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان بدلتے ہوئے موسموں کا سامنا کر رہے ہیں، ہماری بستیاں سیلابوں اور شدید گرمی کی زد میں آ رہی ہیں اور ہمارے قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ ایل نینو جیسے موسمی مظاہر ان خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور کمزور طبقات اور معیشت پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین، بچے اور دیگر کمزور طبقات ان چیلنجز کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، عام شہریوں پر ماحولیاتی انحطاط کے براہ راست اثرات ہوتے ہیں، اس سے صاف پانی کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے، زرعی پیداوار کم ہوسکتی ہے، روزگار کے ذرائع متاثر ہو سکتے ہیں اور عوامی خدمات کے اداروں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شدید موسمی حالات گھروں، سکولوں، سڑکوں اور صحت کے مراکز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے عوام کی روزمرہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہر سطح پر عملی اقدامات ضروری ہیں جن میں پانی کا دانشمندانہ استعمال، فضلہ کم کرنا، جنگلات کا تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی ذمہ داری کے اقدامات کو ہمارے گھروں، سکولوں، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں میں عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ صدر نے نوجوانوں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ آگاہی پھیلانے اور عملی حل تلاش کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی، جدت اور عزم ایک ماحولیاتی طور پر ذمہ دار مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی اور موسمیاتی امور پر بین الاقوامی تعاون کے لئے پرعزم ہے، ہم ماحولیاتی نظام کی بحالی، قابلِ تجدید توانائی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی کے لئے کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے زور دیا کہ آئیے، ہم ماحول کا تحفظ، قدرتی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال کرنے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ پاکستان بنانے کے عزم کا اعادہ کریں۔








