وزارت توانائی نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

وزارت توانائی نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بے بنیاد اورمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صنعتی شعبے کو شمسی توانائی کی طرف منتقلی سے روکنے کے لیے کسی قسم کے اضافی چارجز عائد کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وزارت توانائی نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بے بنیاد اورمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صنعتی شعبے کو شمسی توانائی کی طرف منتقلی سے روکنے کے لیے کسی قسم کے اضافی چارجز عائد کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔ جمعرات کو جاری بیان میں پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایسی کوئی تجویز شیئر نہیں کی گئی جس کا مقصد صنعتی صارفین کو منظور شدہ لوڈ سے کم بجلی استعمال کرنے یا سولر اور دیگر آف گرڈ توانائی ذرائع اختیار کرنے پر جرمانہ کرنا ہو۔ بیان کے مطابق مذکورہ رپورٹ ایک ایسے اختیاری ٹیرف فریم ورک کے بارے میں غلط فہمی پر مبنی ہے جو فی الحال زیر غور ہے۔

پاور ڈویژن نے کہا کہ ’’سولر شفٹ کی حوالہ شکنی کے لیے نئے پاور ٹیرف‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز میں نمایاں اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے تاکہ ان صنعتی صارفین کو سزا دی جا سکے جو اپنے منظور شدہ لوڈ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں یا سولر اور دیگر آف گرڈ ذرائع پر منتقل چکے ہیں جوحقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ خبر کی اشاعت سے قبل متعلقہ ترجمان نے مصنف کو واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ زیر غور مجوزہ ٹیرف نظام اختیاری ہے، لازمی نہیں تاہم افسوس کے ساتھ یہ اہم وضاحت شائع شدہ رپورٹ میں درست انداز میں شامل نہیں کی گئی۔

یہ ٹیرف ڈھانچہ لاگت کی تقسیم کے ایک مختلف نظام پر مبنی ہے جس میں نسبتاً زیادہ فکسڈ چارجز ہوں گے جبکہ متغیر توانائی چارجز کم ہوں گے اور یہ چارجز مختلف اوقات کے لحاظ سے مختلف ہوں گے جیسے کہ شمسی توانائی کی پیداوار کے اوقات اور رات کے اوقات۔ اس کا مقصد صارفین کو ایک متبادل ٹیرف آپشن فراہم کرنا ہے جو ان کے آپریشنل اور کھپت کے پیٹرن کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ صنعتی صارفین کو مکمل آزادی ہوگی کہ وہ اس متبادل ٹیرف نظام کو اختیار کریں یا موجودہ ٹیرف ڈھانچے پر برقرار رہیں۔ کسی بھی صارف کے لیے اس نظام کو اپنانا لازمی نہیں ہوگا۔

مجوزہ ٹیرف ڈیزائن کا مقصد پراسیس انڈسٹریز اور دیگر ایسے صارفین کو فائدہ پہنچانا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں، زیادہ استعمال کی شرح رکھتے ہیں اور جن کی طلب نسبتاً مستحکم ہوتی ہے۔ ایسے صارفین کے لیے متبادل ٹیرف ڈھانچہ زیادہ کفایتی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق جو صنعتی صارف یہ سمجھتا ہے کہ مجوزہ ٹیرف اس کی آپریشنل ضروریات کے مطابق نہیں، وہ بغیر کسی منفی اثر کے موجودہ ٹیرف نظام پر برقرار رہ سکتا ہے۔

اس لیے یہ تاثر کہ صنعتی صارفین کو منظور شدہ لوڈ سے کم استعمال یا سولر توانائی اختیار کرنے پر سزا دی جائے گی، مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور یہ حقیقی پالیسی کے بجائے مصنف کی ذاتی تشریح ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق عوامی مباحثے کی بنیاد درست حقائق اور تکنیکی فہم پر ہونی چاہیے۔ سولر توانائی کے استعمال کے خلاف ایک اختیاری ٹیرف پیشکش کو سزا کے طور پر پیش کرنا صارفین اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز میں غیر ضروری ابہام پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید خبریں