پشاور۔10 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ 2020ءپاکستان اور اس کے عوام کی خوشحالی کا سال ہو گا اور اس سال ہماری پالیسیوں کا مرکز و محور عام پاکستانی شہریوں بشمول کم تنخواہ دار طبقے کا معیار زندگی بلند کرنا، ان کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا، ملازمتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ …
وزیراعظم عمران خان کا اضاخیل ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
پشاور۔10 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ 2020ءپاکستان اور اس کے عوام کی خوشحالی کا سال ہو گا اور اس سال ہماری پالیسیوں کا مرکز و محور عام پاکستانی شہریوں بشمول کم تنخواہ دار طبقے کا معیار زندگی بلند کرنا، ان کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا، ملازمتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نوشہرہ میں اضاخیل ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 190 ارب روپے سے شروع کردہ احساس پروگرام ملک کے غریب و متوسط طبقے کی زندگی میں بہت سی سہولتیں لانے کا باعث بن رہا ہے، یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے صرف کی سستے داموں فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ غریب طبقے کیلئے ماہانہ سستے راشن کا حصول ممکن بنانے کیلئے راشن کارڈز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کا سلسلہ بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے اور یہ سہولت ملک کے تمام غریب خاندانوں تک پہنچائی جا رہی ہے تا کہ یہ خاندان صحت کے مسائل اور علاج معالجے کے اخراجات کی الجھنوں سے بچ جائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ رواں سال ہاﺅسنگ کے شعبے میں حکومت کی 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا عمل بھی شروع ہو رہا ہے جس سے کم آمدنی والا طبقہ اپنے لئے باآسانی گھر بنا سکے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی قابضین سے واگزار کرائی ہے اور اس سلسلے میں تفصیلات آئندہ ہفتے قوم کے سامنے لائی جائیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اولین مقصد پاکستان کو فلاحی ریا ست بنانا ہے اور 2020ءاس جانب پیش قدمی کا سال ثابت ہو گا ۔ عمران خان نے کہا کہ انگریز اس ملک میں ریلوے کا بہترین نظام چھوڑ کر گیا تھا لیکن پچھلے 70سال کے دوران یہ نظام مزید بہتر ہونے اور پھیلنے کے بجائے کمزور ہوا اور سکڑ گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ ریلوے عام آدمی کی سواری ہے جبکہ پاکستان میں برسراقتدار رہنے والی حکومتیں عام آدمی کے بجائے اشرافیہ کیلئے پالیسیاں بنا کر مخصوص با اثر طبقے کو نوازتی رہیں۔انھوں نے کہا کہ ان حکومتوں کے دور میں امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ نظام رائج رہا ، مخصوص با اثر اور سرمایہ دار طبقہ اس نظام میں پھلتا پھولتا رہا جبکہ غریب اور عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ، اچھی نوکریاں ،اچھی تعلیم ، علاج معالجے کی اچھی سہولیات اسی مخصوص طبقے کیلئے فراہم کی جاتی ہیں، طاقتور مجرم دندناتے رہے اور جیلوںمیں قید بے کس و لاچار افراد کی فکر کسی نے نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ نظام نہیں چلے گا ، اب غریب اور عام آدمی کی فلا ح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومتی پالیسیاں غریب اور عام آدمی کی ضروریات و تکالیف کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جا رہی ہیں، وزیر اعظم نے ریلوے میں اصلا حات اور اس کی آمدن میں اضافہ کرنے پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون پاکستان میں ریلوے کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا باعث بنے گا اور ایم ایل ون کی تکمیل کے بعد کراچی سے پشاور تک کا فاصلہ آٹھ گھنٹے میں طے ہو سکے گا، اس طرح نہ صرف مسافر ٹرینوں بلکہ فریٹ ٹرینوں کی تیز ترآمد و رفت ممکن ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی کارپوریشنز کے خسارے کے باعث حکومت کو ہر سال 500 ارب روپے کا نقصان برداشت کر نا پڑ رہا ہے اور یہ نقصان در حقیقت پاکستان کے شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ یہ خسارے ان کے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے پو رے ہوتے ہیں۔انھوں نے ریلوے حکام کو ہدایت کی کہ وہ ریلوے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے محنت کریں اور ریلوے کی اراضی کو منافع بخش انداز میں استعمال میں لائیں ۔ انھوں نے کہا جس کسی کو ملک میں جہاں بھی کرپشن نظر آئے اس کی نشاندہی وزیرا عظم ویب پورٹل پر کرے تاکہ بدعنوان عناصر کا قلع قمع کیا جا سکے ۔








