وزیراعظم محمد نواز شریف کا قوم سے خطاب

وزیراعظم محمد نواز شریف کا پانامہ پیپرز پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کےلئے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان میں خود اور میرا پورا خاندان احتساب کےلئے تیار ہے، ہم کمیشن کی سفارشات قبول کریں گے وہ لوگ جو بہتان تراشیوں کی انتہا پر اتر آئے ہیں وہ ہماری شفافیت کی انتہا بھی دیکھ لیں ، اگر ہم پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ لوگ جو روزانہ جھوٹے …

وزیراعظم محمد نواز شریف کا پانامہ پیپرز پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کےلئے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان
میں خود اور میرا پورا خاندان احتساب کےلئے تیار ہے، ہم کمیشن کی سفارشات قبول کریں گے
وہ لوگ جو بہتان تراشیوں کی انتہا پر اتر آئے ہیں وہ ہماری شفافیت کی انتہا بھی دیکھ لیں ، اگر ہم پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ لوگ جو روزانہ جھوٹے الزامات کا بازار گرم کرتے ہیں، قوم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے؟ اور کیا عوام انہیں معاف کر دیں گے؟ اس سوال کا جواب میں عوام پر چھوڑتا ہوں،ذرا ان کا بھی حساب ہو جائے جو آج حساب مانگنے نکلے ہیں، آئین توڑنے سے لے کر 17 ویں ترمیم کا کلنک قوم کے ماتھے پر لگانے کا حساب، سپریم کورٹ میں بندوق کی نوک پر ججوں سے حلف لینے کا حساب، 72 ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کرنے کا حساب، ہمارے کارکنوں پر بدترین تشدد کرنے کا حساب، مجھ پر ہائی جیکنگ کا جھوٹا مقدمہ بنانے کا حساب، کیا ان سب باتوں کا حساب نہیں مانگا جانا چاہئے
وزیراعظم محمد نواز شریف کا قوم سے خطاب
اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر خود کو اور اپنے پورے خاندان کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط تحریر کریں گے کہ وہ پاناما پیپرز کے معاملہ کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیں اور وہ اس کمیشن کی سفارشات قبول کریں گے۔ انہوں نے یہ اعلان جمعہ کی شام قوم سے نشریاتی خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں پاکستان کے باشعور عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ اﷲ کے بعد صرف اور صرف پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہیں لہذا وہ عوام کے سامنے ایک اہم اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھیں گے کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیں تاکہ جو لوگ بہتان تراشیوں کی انتہاءپر اترے ہوئے ہیں وہ اس کام سے ہماری شفافیت کی انتہاءدیکھ لیں۔

Leave a Reply