وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی پیر نورالحق قادری کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے پائیدارحکمت عملی کے تحت معاشرے کے کمزور اور متوسط طبقات کی سہولت کے لئے 4ہزاریوٹیلٹی سٹورزکے ذریعے آٹا ،گھی ،چینی اور دالوں پر 5ماہ کے دوران 10ارب کی سبسڈی دینے ، کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت یوٹیلٹی سٹور کے تعاون سے 2ہزار یوتھ سٹور کھولنے کی منظوری دیدی ، چینی کی ضروریات اور اسکے ریٹ کو مستحکم رکھنے کے …

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے پائیدارحکمت عملی کے تحت معاشرے کے کمزور اور متوسط طبقات کی سہولت کے لئے 4ہزاریوٹیلٹی سٹورزکے ذریعے آٹا ،گھی ،چینی اور دالوں پر 5ماہ کے دوران 10ارب کی سبسڈی دینے ، کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت یوٹیلٹی سٹور کے تعاون سے 2ہزار یوتھ سٹور کھولنے کی منظوری دیدی ، چینی کی ضروریات اور اسکے ریٹ کو مستحکم رکھنے کے لئے فی الفور چینی کی درآمد پر عائد پابندی اٹھانے ، غذائی اجناس سستے داموں فراہم کرنے کے لئے عائد ٹیکسز کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ حج پالیسی 2020کی منظوری دیتے ہوئے شمال ریجن کے لئے پیکیج 4لاکھ 90ہزار اورجنوبی ریجن کےلئے 4لاکھ 80ہزارروپے حج اخراجات مقرر کر دیئے گئے ہیں، راشن کارڈ کا اجراءماہ رومضان رشوع ہونے سے پہلے کر دیا جائے گا، راشن کارڈ کے ذریعے مستحق اقراد کو اشیائے ضروریہ کی خرید میں 25 سے 30 فیصد رعایت میسر آئے گی، وزیراعظم عمران خان نے چینی اور گندم بحران کی انکوائری کرنے والی کمیٹیوں کی رپورٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر اندر دوبارہ جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں ۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیرمذہبی امور پیر نورالحق قادری کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کیخلاف عوام الناس اور خصوصاً غریب اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے بڑے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق آئندہ پانچ ماہ کیلئے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو حکومت کی جانب سے دوارب روپے ماہانہ سبسڈی کیلئے فراہم کئے جائیں گے۔ یہ سبسڈی بنیادی اشیائے خوردونوش (گندم، چاول، چینی، دالیں اور گھی) کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے دی جا رہی ہے۔ یوٹیلٹی سٹور کو ہدایت کی گئی ہے کہ گندم کا بیس گرام کا تھیلا آٹھ سو روپے پر، چینی ستر روپے کلو گرام، گھی 175 روپے فی کلو گرام جبکہ چاول اور دالوں کی 15 سے 20 روپے کم قیمت پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ یوٹیلٹی سٹورز کو دس ارب روپے 5 ماہ کےلئے دینے کا مقصد بنیادی اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس موجود سٹاک میں بنیادی اشیاءکا تسلی بخش ذخیرے کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں پالیسی کا اعلان آئندہ ایک ماہ میں کیا جائے گا۔ کامیاب جوان پروگرام کے تحت یوٹیلٹی سٹورز کے اشتراک سے 2000 یوتھ سٹورز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ان دو ہزار سٹور کو سستے نرخوں پر اشیاءفراہم کرے گی۔ آئندہ دو سالوں میں ان سٹورز کی تعداد پچاس ہزار کر دی جائے گی۔ ان سٹورز کیلئے ورکنگ کیپٹل (زر) کامیاب جوان قرضوں کے ذریعے مہیا کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت چار لاکھ افراد کو براہ راست جبکہ آٹھ لاکھ افراد کو بالواسطہ نوکریوں اور کاروبار کے مواقع میسر آئیں گے۔یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ملک کے بڑے شہروں میں بارہ کیش اینڈ کیری سٹور قائم کرے گی جو فرنچائز اور بزنس ٹو بزنس ماڈل پر کسٹمرز کو کھانے پینے کی اشیاءکی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔یوٹیلٹی سٹورز ملک بھر میں پچاس ہزار تندوروں اور ڈھابوں کو کنٹرول ریٹ پر اشیاءفراہم کرے گا۔یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن ایک کمپنی کے تحت پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر پانچ فری زونز کا قیام عمل میں لائے گا۔ ان مقامات پر یوٹیلٹی سٹورز قائم کئے جائیں گے تاکہ افغانستان میں درآمد کی جانے والی اشیاءکی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور کھانے پینے والی اشیاءکی سمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے۔ راشن کارڈ کا اجراءماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے کر دیا جائے گا۔ راشن کارڈ کے ذریعے مستحق اقراد کو اشیائے ضروریہ کی خرید میں 25 سے 30 فیصد رعایت میسر آئے گی۔ کابینہ نے چینی کی درآمد پر پابندی اٹھا لی ہے، چینی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں ہو گی، دالوں کی درآمد پر عائد کئے جانے والے ٹیکسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کو ختم کیا جا سکے۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت 43 لاکھ خواتین کو ماہانہ دو ہزارروپے دیے جا رہے ہیں۔ مارچ تک اس تعداد میں مزید دس لاکھ خواتین کا اضافہ کیا جائے گا۔ اس سال کے آخر تک یہ تعداد ستر لاکھ کر دی جائے گی۔ اس پروگرام سے چار کروڑ 69 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔احساس انڈر گریجویٹ پروگرام کے تحت سرکاری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پچاس ہزار طلباءکو وظیفے دیے جائیں گے تاکہ ان کی ٹیوشن فیس اور یونیورسٹی کے دیگر اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ اس پروگرام کا اجراء27 مارچ کو باقاعدہ طور پر وزیراعظم خود کریں گے۔ مارچ کے آخر تک ملک بھر میں پچاس ہزار سکالر شپ دیے جائیں گے۔ احساس ایسٹ ٹرانسفر پروگرام کا باقاعدہ اجرائ21 فروری کو کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت آئندہ دو سالوں میں دو لاکھ پچیس ہزار افراد کو پچاس ہزارروپے تک کے اثاثے مثلاً مویشی، دکان کیلئے سامان، زرعی آلات وغیرہ فراہم کئے جائیں گے۔ اس پروگرام سے 14 لاکھ افراد مستفید ہونگے۔ احساس سود سے پاک قرضہ پروگرام کے تحت اسی ہزار قرضوں کے اجراءکا پروگرام جولائی 2019ءسے شروع کر دیا گیا ہے۔ اب تک چار لاکھ نوے ہزار ایک سو بائیس قرضوں کا اجراءکیا جا چکا ہے یہ رقم 16.65 ارب روپے بنتی ہے۔ احساس سہ ماہی تعلیمی وظیفہ پروگرام کے تحت پچاس ضلعوں میں پرائمری سکول جانے والے بچوں کی ماﺅں کو وظیفہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت فی لڑکا 750 روپے سہ ماہی جبکہ ہر لڑکی کی والدہ کو ایک ہزارروپیہ فی سہ ماہی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اپریل تک اس پروگرام کا دائرہ کار 100 ضلعوں تک بڑھا دیا جائے گا اور مستفید ہونے والے بچوں کی تعداد کودوگنا کر دیا جائے گا۔ احساس نیوٹریشن پروگرام (غذائی ضروریات کی فراہمی) کا آغاز مارچ سے کر دیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت ہر حاملہ خاتون اور بچوں کو دودھ پلانے والی ماﺅں کو اپنی غذائی ضروریات پورا کرنے اور بچوں کو اسٹنٹنگ سے بچانے کیلئے ہر سہ ماہی کیلئے دو ہزار روپے دیے جائیں گے۔ اس پروگرام سے اس سال بیس ہزار خواتین مستفید ہوں گی۔ اس پروگرام کا دائرہ کار آئندہ سالوں میں بڑھا دیا جائے گا۔احساس لنگر پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ فروری مارچ میں دس لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سولنگر خانوں کا قیام عمل میں آئے گا۔اس پروگرام سے ایک کروڑ 47 لاکھ افراد مستفید ہونگے۔کابینہ کو کرونا وائرس کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور اس وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریف کیا گیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ چین میں موجود پاکستانیوں خصوصاً ووہان میں موجود پاکستانی طلباءکی خیریت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کرونا وائرس کے حوالے سے ملک میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بھی کابینہ کو تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے تمام متعلقہ وزارتوں بشمول وزارت صحت، وزارت خارجہ، وزارت اوورسیز پاکستانیز و دیگر متعلقین کو ہدایت کی کہ کرونا وائرس کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ چین میں موجود پاکستانیوں کا ہر ممکن خیال رکھا جائے اور ان کی خیریت سے ان کے خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے۔کابینہ نے متعلقہ وزارتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ پاکستانیوں کی خیر و عافیت کے حوالے سے چینی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے اور چین میں موجود پاکستانیوں کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ چین میں موجود پاکستانیوں اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کی سہولت کاری میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پاسکو کھانے پینے (edible items) کے سٹرٹیجک ذخائر یقینی بنائے گا،گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔کابینہ کو بتایا گیا کہ گندم اور چینی کی صورتحال کی انکوائری کرنے والی کمیٹی کے سامنے مزید سوالات رکھے گئے ہیں تاکہ وہ ان امور کا بھی جائزہ لے اور مفصل رپورٹ حکومت کوپیش کرے۔ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ کوہدایت کی کہ خوردونوش کی اشیاءپر عائد ٹیکسز کی تمام تر تفصیلات کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔ وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے پٹرولیم کو ہدایت کی کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے لائحہ عمل آئندہ ایک ہفتے میں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی 20-01-2020، 29-01-2020، 04-02-2020 اور 10-02-2020 کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی،کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے04-02-2020 کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔کابینہ کو غیر ملکی سرمایہ کاری (فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ) اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے مختلف ملکعوں سے ہونے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یوز) پر پیش رفت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔کابینہ نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2016ءاور امپورٹ پالیسی آرڈر 2016ءمیں ترمیم کی اجازت دی۔ اس ترمیم کی رو سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز، مینوفیکچرنگ بانڈز اینڈ ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹس سے افغانستان برآمد کئے جانے والے پولی وینائل کلورائڈ اور پلاسٹک مولڈڈ کمپاﺅنڈ کو سیل ٹیکس کے حوالے سے زیروریٹنگ کا درجہ دیا گیا ہے۔کابینہ نے ہندو برادی کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے بھارت سے پاکستان منگوائی جانے والی مورتیوں کو پاکستان میں لانے کی بھی اجازت دی جائے۔ یہ اجازت ایک دفعہ کیلئے دی گئی ہے۔ یہ خصوصی رعایت پاکستان میں بسنے والی ہندو عوام کے مذہبی عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔کابینہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2019ءکی اشاعت کی بھی اجازت دی ۔کابینہ نے شفقت الرحمان رانجھا کو چیئرمین ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ تعیناتی ایم پی ون سکیل میں کی جائے گی۔کابینہ نے پروفیسر ڈاکٹر محسن نوید عباس کو بطور ایڈمنسٹریٹر (ایم پی ٹو) ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے چھٹی مردم شماری 2017ءکے نتائج کو حتمی شکل دینے کیلئے سفارشات مرتب کرنے کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دی۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں چالیس سال قیام کے موقع پر منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر چالیس روپے کا یادگاری سکے کا اجراءکرنے کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے ٹڈی دل کی روک تھام کے حوالے سے نیشنل ایمرجنسی کے تحت اقدامات کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے پاکستان کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ہاﺅسنگ اور ہاﺅسنگ فنانس کے فروغ کیلئے مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کی بھی منظوری دی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے بتایا کہ حج پالیسی اور پلان برائے سال 2020ءکابینہ کے سامنے پیش کئے گئے۔ اس پالیسی کے تحت سال 2020ءمیں پاکستان کیلئے مخصوص حج کوٹہ 179210 ہو گا جو کہ 60:40 کی شرح سے سرکاری اور نجی شعبے کیلئے مختص کیا جائے گا ساٹھ فیصد سرکاری طورپر جبکہ چالیس فیصد نجی ٹور آپریٹرز میں تقسیم ہوگا۔حج کے اخراجات کی مد میں کابینہ نے ہدایت کی کہ اخراجات میں واضح کمی لائی جائے۔ اس سال تقریباً چار لاکھ نوے ہزار اخراجات آئیں گے۔ دس ہزار سیٹیں ستر سال سے زائد بزرگوں کیلئے مختص کی جائیں گی۔ایسے افراد جو گزشتہ تین سالوں (2017، 2018ءاور 2019ئ) میں سرکاری سکیم کے تحت حج کی سعادت حاصل نہیں کر سکے ان کو یہ سعادت فراہم کی جائے گی بشرطیکہ انہوں نے ان سالوں میں نجی سیکٹر کے ذریعے حج کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔بیرون ملک پاکستانیوں (اوورسیز پاکستانیز) کیلئے ایک ہزار سیٹیں مختص ہوں گی۔گورنمنٹ کوٹے میں سے 1.5 فیصد ہارڈ شپ کیسز کیلئے مختص کیا جائے گا۔پانچ سو سیٹیں ای او بی آئی اور ورکرزویلفیئر فنڈ کے تحت اداورں میں کام کرنے والے مزدوروں اور کم تنخواہوں والے افراد کیلئے ہو گا، کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا، سرکاری کوٹے کے تحت حجاج کرام کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی سے ہو گا، خواتین کیلئے محرم کی شرط لازمی ہو گی (فقہ جعفریہ کے مطابق پینتالیس اور اس سے زائد سال کی خواتین اس شرط سے مستثنیٰ ہوں گی)، حج بدل/نفل حج کی درخواستیں قبول کی جائیں گی بشرطیکہ درخواست گزار نے گزشتہ پانچ سالوں میں سرکاری سکیم سے حج ادا نہ کیا ہو۔ تکافل کے ذریعے پر حجاج محافظ سکیم جاری رہے گی۔ نجی شعبے میں حج گروپ آرگنائزر کو حج کوٹہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روسے دیا جائے گا، نجی شعبے کے کوٹے میں سے دو فیصد کوٹہ نئی حج کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حج میڈیکل مشن، معاونین حجاج، وزارت مذہبی امور کا سٹاف اور سعودیہ میں مقیم معاونین حجاج کا تقرر کیا جائے گا تاکہ وہ حجاج کرام کی سہولت کاری کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ”روڈ ٹو مکہ“ پراجیکٹ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ ایئرپورٹس سے شروع کرنے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ، گلگت بلتستان میں بھی عارضی حجاج کیمپس قائم کئے جائیں گے۔ کابینہ نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی کہ ملائیشیا کی طرزپر حج فنڈ قائم کیا جائے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عشاق اعوان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کابینہ اجلاس میں مشکلات ،پریشیانیوں اور مہنگائی سے جڑے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا ، وزیراعظم کی معاشی ٹیم ،فوڈ سکیورٹی ،وزارت تجارت اور متعلقہ دیگر اداروں جس میں یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن اور دیگر نے تفصیل سے بریفنگ دیتے ہوئے ایسے اقدامات کی منظوری لی جس کے تحت کمر توڑ مہنگائی کی کمر توڑی جاسکے ،ایک طرف حکومت سبسڈی دے گی وہاں اشیاءضروریہ کی ترسیل اور فراہمی کی کڑی نگاہ رکھنے کے لئے موثر حکمت عملی کی منظوری دی گئی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے ثمرات عوام تک حقیقی معنوں میں پہنچانے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو ہفتہ وار وزیراعظم کو رپورٹ دے گی اور راستہ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے کے لئے وزیراعظم کو حقائق پر مبنی معلومات کا تبادلہ کرے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بین الاقوامی معاہدوں میں ماضی میں اگر کسی نے کمیشن کے لئے عوام کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے انھیں بے نقاب کر کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنہوں نے آج اس ملک کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے وہ ہی آج تنقید کر رہے ہیں ، ماضی کے معاہدے سانپ بن کر قوم کو ڈس رہے ہیں ،حکومت معاہدے عوام کے سامنے لانا چاہتی ہے تا کہ سب عوام کے سامنے آئے ،جلد متعلقہ وزراءکابینہ اور میڈیا کو بتانے جارہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی آر اوز کے اجلاس کے معاملے پر شہباز گل کی غلطی نہیں ہے ، ہمارے اپنے سٹاف کی غلطی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر ایک بیانیہ حکمت عملی کمیٹی بنی ہے اس میں مختلف لوگ ممبر ہے، اس میں شہباز گل بھی ایک ممبر ہے انھیں یہ اسائنمنٹ دی گئی ہے کہ وہ میری مدد کے لئے پارٹی کے مفاد میں مواد کو تیار کرے اور سکرین پر جعلی خبر چل رہی ہے تو اسکی تردید کی جائے ، ہفتہ اتوار کو میری چھٹی ہوتی ہے اس دن شہباز گل نے فون پر کہا کہ پی آر اوز کو آپس میں رابطے بڑھانے اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر حکومتی بیانیے کوبہتر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، پی آئی ڈی والوں نے اپنے پی آئی او سے ہدایت لینے کی بجائے برائے راست لیٹر جاری کیا اس غلطی کا احساس شہباز گل اورہمارے سٹاف کو بھی ہوگیا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں192ارب میں سے 40ارب تقسیم ہوئے ہیںجون تک یہ پیسے 100فیصد استعمال ہونگے ، اس کیلئے جنگی بنیادوں پر وزیراعظم ریلیف دینا چاہتے ہیں جو پروگرام شروع کیے گئے ہیں ان پروگراموں کو تیز کیا جائے ، شروع میں کچھ وقت لگا اس میں شفافیت کو یقینی بنانا تھا پروگرام کی ایپ ،ڈیٹا بینک ،پلان آف ایکشن اور تقسیم کا عمل عمل درآمد کے لئے تیار ہوگیا ہے جس مقصد کے لئے پروگرام رکھا گیا ہے اس کا فائدہ ہوگا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چینی کی وافر مقدار موجود ہے اگر کوئی چاہتا ہے کہ درآمد کر ے حکومت ان کی سہولت کاری کے لئے تیار ہے ،جس نے جہاں جہاں چینی کی بوریاں اور بیگ چھپائے ہیں وہ مارکیٹ میں لے آئیں ،ورنہ چینی کا سیلاب لے آئیں گے انھیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے ، وزیراعظم نے گٹھ جوڑ توڑنے کے لئے ہر حد تک جانے کا فیصلہ کیا ہے ،حکومت کی رٹ کو جو بھی چیلنج کریگا اس آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ۔

مزید خبریں