اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی ترقی کے حوالے سے 15ویں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایس ایم ای سیکٹر کی بہتری اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، سی ای او (سمیڈا)، صوبائی وزارتوں اور بینکاری …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت 15ویں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس، ایس ایم ای سیکٹر کی بہتری اور پالیسی اصلاحات پر غور کیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی ترقی کے حوالے سے 15ویں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایس ایم ای سیکٹر کی بہتری اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، سی ای او (سمیڈا)، صوبائی وزارتوں اور بینکاری شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بینکاری شعبے کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ کے تحت 8 کھرب 82 ارب 40 کروڑ روپے کے قرضے 3 لاکھ 2 ہزار 922 قرضہ دہندگان کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جو اس شعبے کی ترقی میں اہم پیش رفت ہے۔
اجلاس میں ایس ایم ای کی سالانہ سیلز ٹرن اوور کی حد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق مائیکرو انٹرپرائزز کیلئے حد 30 ملین روپے تک ،سمال انٹرپرائزز کیلئے 30 سے 400 ملین روپے،میڈیم انٹرپرائزز کیلئے 400 سے 2000 ملین روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ قومی ایس ایم ای پالیسی 2021 پر عملدرآمد ایجنڈا کا دوسرا اہم نکتہ ایس ایم ای کی تعریف اور دائرہ کار میں نظرثانی ہے، جو وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے نئی تعریف کو اپنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اس شعبے کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
ایس ایم ایز کی نئی تعریف پر وفاق اور تمام صوبے ایک پیج پر ہیں۔اجلاس میں سمیڈا اور صوبائی حکام کو باقاعدہ فالو اپ اور پیشرفت رپورٹنگ کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ایس ایم ایز کیلئے قرضوں تک رسائی بنیادی محرک ہے اور تمام بینک اس سلسلے میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں میں ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی اور سہولتوں تک رسائی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صنعتی پالیسی میں قرضوں تک آسان رسائی اور ٹیکس ریلیف پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ اسکل ڈویلپمنٹ بانڈ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹریننگز کو ایس ایم ایز کیلئے حوصلہ افزا اقدام قرار دیا گیا۔ سمیڈا کی جانب سے جدید مہارتوں اور اے آئی تربیت کی فراہمی کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔








