وزیراعظم ہاوس مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق کل جماعتی اجلاس میں شامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔
وزیراعظم ہاوس مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

مزید خبریں
مظفر آباد۔ 03 جون (اے پی پی):وزیراعظم ہاوس مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق کل جماعتی اجلاس میں شامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔ اے پی سی کے اختتام پر وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے منظور کردہ قرارداد پڑھی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر منظور قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس جموں وکشمیر کے عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودرادیت کے حصول کے لیے جاری جائز جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبرو استبداد اور مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے، نیز حریت قیادت اور سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی اور قید کو بھی قابل مذمت قرار دیتا ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے تناست کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ اجلاس آزادجموں و کشمیر میں جاری جمہوری تسلسل اور آئینی عمل کے تسلسل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔یہ اجلاس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مزید برآں یہ اجلاس تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم رہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس آزادجموں و کشمیر میں قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے ریاستی استحکام کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔
اجلاس اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ دشمن ملک بھارت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور منظم پروپیگنڈہ کے ذریعے ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد کیے جائیں گے۔آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پُر امن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام بلا خوف و خطر، دباؤ یا مداخلت کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے، متاثر کرنے یا پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس مہاجرین جموں و کشمیرکی تحریک آزادی کشمیر یعنی تحریک تکمیل پاکستان کیلئے لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتاہے۔ یہ اجلاس اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم بعض انتخابی پیچیدگیوں کو دور کیے جانے اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔ متفقہ طور منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، لہذا، ایسی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔
تاہم اس سے قبل تمام متعلقہ فریقین بشمول سیاسی جماعتوں، بار ایسو سی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے ایک وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر و صدر ن لیگ شاہ غلام قادر، صدر پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری محمد یاسین، صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان،سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان، سابق صدور سردار محمد یعقوب خان اور سردار مسعود خان،سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان،صدر جموں و کشمیر پیپلز پارٹی سردار حسن ابراہیم، وزراء حکومت میاں عبدالوحید، جاوید اقبال بڈھانوی،قاسم مجید اور نبیلہ ایوب، ممبران اسمبلی عبدالماجد خان، احمد رضا قادری، تقدیس گیلانی،
سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن چوہدری طارق فاروق اے،امیر جمیت علمائے اسلام مولانا سعید یوسف، لبریشن لیگ کے صدر منظور قادر ڈار، چیئرمین علماء مشائخ کونسل امتیاز صدیقی، جماعت اسلامی کے نور الباری،ایم ڈبلیو ایم کے صدر یاسر عباس نقوی، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، قاضی محمود الحسن اشرف، دانیال شہاب،امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ڈاکٹر محمد الیاس محمد انور، جنرل سیکرٹری مرکزی جمعیت اہلحدیث محمد امین بٹ، صدر جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نبیلہ ارشاد سمیت دیگر زعما اے پی سی میں تھے۔








