وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں صحت عامہ کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت، سستی اورقابل رسائی طبی سہولیات اور عوام دوست سکیموں کی بحالی پر توجہ مرکوز

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):وفاقی حکومت نے صحت عامہ کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب سےنمٹنے کے لئےسستی اورقابل رسائی سہولیات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے شاندار اختراعی اقدامات کے ذریعے ملک میں خصوصی طبی اور مشاورتی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں آٹزم سنٹر کا قیام، دماغی صحت کی ہیلپ لائن …

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):وفاقی حکومت نے صحت عامہ کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب سےنمٹنے کے لئےسستی اورقابل رسائی سہولیات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے شاندار اختراعی اقدامات کے ذریعے ملک میں خصوصی طبی اور مشاورتی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں آٹزم سنٹر کا قیام، دماغی صحت کی ہیلپ لائن اور زندگی بچانے والے سی پی آر ٹریننگ پروگرام کا آغاز، اور قیدیوں کو طبی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت سمیت جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں،یہ اقدامات ان کے زیادہ مساوی اور جدید صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تشکیل سمیت وسیع تر عزم کا اظہار ہیں۔

صحت کے شعبے میں مخیر حضرات کے تعاون کی حوصلہ افزائی کے لیے وزیراعظم نے حال ہی میں لاہور میں 600 بستروں پر مشتمل انڈس ہسپتال کا افتتاح کیا اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ صحت اور تعلیم کے میدان میں آگے آئیں اور غریب اور مستحق لوگوں کی تکالیف کے خاتمے کے لیے دل کھول کر عطیات دیں۔انہوں نے لاہور میں چھ منزلہ اور 350 بستروں پر مشتمل سلیم میموریل ٹرسٹ ہسپتال کا افتتاح بھی کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سہولت عالمی معیار کے علاج کی سہولیات کے ساتھ بیمار انسانیت کی خدمت کرے گی۔

شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور میں صوبے میں مختلف ہسپتال بنائے اور اپ گریڈ کئے ۔ترک حکومت کی طرف سے مظفر گڑھ میں 250 بستروں پر مشتمل جدید ترین رجب طیب اردوان ہسپتال 2010 کے سیلاب کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے ہوئے انہوں نے 20 ارب روپے جمع کر کے پنجاب انڈومنٹ فنڈ کو فعال کیا اور اس فنڈ سے بڑی تعداد میں یتیم بچوں کی کفالت کی جسے بدقسمتی سے پچھلی حکومت نے بند کر دیا۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت انڈومنٹ فنڈ اور سی ایم سیلف ایمپلائمنٹ اسکیم سمیت ایسی تمام عوام دوست سکیموں کو بحال کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 20 ارب روپے کی لاگت سے پی کے ایل آئی ہسپتال بھی بنایا تھا جس پر سابق ​​حکومت نے سیاست کی تھی جس سے بہت نقصان ہوا۔ پنجاب بھر میں ہیپاٹائٹس فلٹر سینٹرز بنائے گئے جہاں ملک بھر سے مریض علاج کے لیے آتے تھے۔مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ادویات سستی کرنے اور ان تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 20 ادویات کی قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی کی۔ بیشتر ادویات کی قیمتوں میں کمی کا تناسب 30 فیصد رہا اور 54 دیگر ادویات کی قیمتیں بھی مقرر کی گئیں۔وزیر اعظم نے حال ہی میں شہریوں کی ذہنی صحت اور تندرستی کے لئے’’ہمراز‘‘ ذہنی صحت ایپلی کیشن اور مربوط ہیلپ لائن 1166 کا آغاز کیا۔ شہری اگر ڈپریشن، ٹینشن یا ذہنی تناؤ کا شکار ہیں تو 1166 پر مفت کال کر کے ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں سے مشورہ کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے عام لوگوں کے لیے وزیراعظم نیشنل سی پی آر(کارڈیوپلمونری ریسوسی ایشن)پروگرام شروع کیا تاکہ دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کی زندگی بچائی جاسکے۔حکومت نے حال ہی میں وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے لیے نیشنل آٹزم اینڈ مینٹل ہیلتھ سینٹر قائم کیا ہے جو ملک میں اس طرح کی پہلی اعلیٰ معیار کی سہولت ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ سینٹر او پی ڈی میں تشخیصی اور علاج کی سہولیات فراہم کرے گا۔صحت کے مساوی تعلیمی نظام کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کو میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے آئندہ داخلہ ٹیسٹ میں نوجوان قیدیوں کو شامل کرنے کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔

حکومت وفاقی دارالحکومت میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم کرر ہی ہے اور اس سہولت کو فعال بنانے کے لیے معروف رینل اور لیور ٹرانسپلانٹ سرجنز کو بھی شامل کرے گی۔وفاقی وزارت صحت نے صوبوں کے ساتھ مل کر، پاکستان میں تمباکونوشی پر قابو پانے کی کوششوں کو موثر بنانے کےلئے قومی تمباکو کنٹرول پالیسی تیار کی ہے، اس پالیسی کے تحت تمباکو کے ہر قسم کے اشتہارات، پروموشنز اور سپانسرشپ پر پابندی عائد کر دی ہے، اس کے علاوہ 60 فیصد سگریٹ کے پیکٹ کے ساتھ اور باہر گرافک ہیلتھ وارننگ پر عمل کیا جارہا ہے۔