وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان ماضی کی غلط پالیسیوں کا مداوا کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے جو قائد اعظم کے زریں اصول پرامن بقائے باہمی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جنگ کے حوالے سے پہلے 1980کی دہائی اور بعد میں …

اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان ماضی کی غلط پالیسیوں کا مداوا کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے جو قائد اعظم کے زریں اصول پرامن بقائے باہمی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جنگ کے حوالے سے پہلے 1980کی دہائی اور بعد میں نائن الیون کے واقعات کے بعد ایسے فیصلے کیے گیے جو قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد پر مبنی تھے،قوم آج تک ان کے منفی اثرات سے باہر نہیں نکل سکی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے تحت 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے پہلے دن کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن میں پاکستان کا اپنا بہترین مفاد پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گو بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا مگر پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو باہمی تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان معاشی خود مختاری کے دور میں داخل ہو گا جس کے نتیجے میں آزادانہ خارجہ پالیسی بنانا زیاد ہ آسان ہو گا۔

Leave a Reply