وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے حالیہ نامزدگیاں پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ایک تجسس اور سوالات نے جنم دیا ہے، کیا شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا عہدہ چھوڑ دینگے یا رکھیں گے، نامزدگیوں سے شہباز شریف کی اپنی جماعت سکتے کی حالت میں ہے، گینگ …

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے حالیہ نامزدگیاں پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ایک تجسس اور سوالات نے جنم دیا ہے، کیا شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا عہدہ چھوڑ دینگے یا رکھیں گے، نامزدگیوں سے شہباز شریف کی اپنی جماعت سکتے کی حالت میں ہے، گینگ آف فور کے علاوہ پارٹی رہنمائوں کو تبدیلی کا علم ہی نہیں، نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی ڈھیل دی جارہی، اٹھارویں ترمیم کوکو ئی نہیںچھیڑ رہا،صدارتی نظام کی بات لغو اور بے معنی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب سے کوئی اختلاف نہیں، اسد عمر پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے مسلم لیگ کی جانب سے حالیہ نامزدگیوں کو ”چینج آف گارڈز” قرار دیا اور کہا کہ یہ مسلم لیگ ن کا اندرونی معاملہ ہے لیکن پارلیمانی لیڈر کی اچانک تبدیلی سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ پارلیمانی لیڈر کو تبدیل کرنے پر تو ہمارا بھی تعلق بن جاتا ہے، ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ جمہوریت میں قائد ایوان کی ضرورت ہے وہاں قائد حزب اختلاف کا اپنا کردار ہے اور وہ ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹ کمیٹی پارلیمنٹ کی اہم کمیٹی ہے جس نے آڈٹ پیراز کو دیکھنا اور خسارے کا تدارک کرنا ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کمیٹی میں جہاں اپوزیشن کے اراکین ہیں وہاں حکومتی اراکین بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، سپیکر قومی اسمبلی اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جبکہ اس کمیٹی میں ن لیگ کو جو نمائندگی دی گئی ہے اس میں شہباز شریف بھی شامل ہیں، وہ اس کمیٹی میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور پیپلزپارٹی والے بھی شور کرتے تھے کہ پارلیمانی کمیٹی ہونی چاہئے۔ اب کمیٹی بن گئی تو معلوم نہیں کہ وہ اس میں ہوں گے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک تجسس اور سوالات نے جنم لیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ میں معمولی رد و بدل کیا تو ایک بھونچال سا آگیا اور اسے کابینہ کی ناکامی قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں رد وبدل معمول کا عمل ہے اور تمام دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کیا ن لیگ کی قیادت اچانک تبدیلیوں پرپارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لے گی۔ان کی اپنی جماعت اب سکتے کی حالت میں ہے۔ گینگ آف فور کے علاوہ کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے یہاں تک کہ سینئر اور زیرک سیاستداں راجہ ظفر الحق کو بھی ان تبدیلیوں کا علم نہیں تھا۔اس سے ایک ڈیل کا تاثر ابھر رہا ہے جس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں کہ شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا عہدہ رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی جماعت کے بہت سے لوگ کہہ رہے ہیںکہ شاہد خاقان عباسی کو سینئر وائس پریذیڈنٹ بنایا جارہا ہے اور وہ مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جواز دے رہے ہیں کہ شہباز شریف نے صحت کی بنا پر پارلیمانی عہدہ چھوڑا۔ اگر شہباز شریف کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ پارلیمانی لیڈر رہیں تو ان کی صحت کیسے اجازت دے گی کہ وہ اپوزیشن لیڈر رہیں۔ اگر وہ ایک جماعت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو قائد حزب اختلاف کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اب رانا تنویر کو چیئرمین پبلک کمیٹی نامزد کیا ہے۔ طویل عرصہ تک یہ معاملہ کھٹائی میں اس لئے رہا کیونکہ مسلم لیگ ن نے اسے اناء کا مسئلہ بنایا ہوا تھا اور کہا تھا کہ ہم سٹینڈنگ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں اپوزیشن کے اصرار پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بن رہا ہوں جبکہ پیپلزپارٹی کہتی تھی کہ انہیں اس لئے عہدہ دیا جائے کیونکہ میثاق جمہوریت میں طے ہوا تھا کہ قائد حزب اختلاف کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ رانا تنویر تو قائد حزب اختلاف نہیں ہیں تو میثاق جمہوریت کی نفی آپ نے خود کردی، اس کے ساتھ ساتھ میثاق جمہوریت صرف وفاق پر کیوں لاگو ہوتا ہے، سندھ پر لاگو کیوں نہیں ہوتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں صرف پیپلزپارٹی کے اراکین ہیں، اس میں حزب اختلاف کا ایک رکن نہیں ہے، کس کا احتساب کریں گے جو توقع ہم سے کرتے ہیں وہ خود پر لاگو کیوں نہیں کرتے۔ جب خود میثاق جمہوریت کی دھجیاں خود اڑادیں تو ہم کیسے رانا تنویر کو قبول کریں۔ڈیل کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی ڈیل ہورہی ہے اور نہ ہی کوئی ڈھیل دی جارہی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیساتھ کوئی اختلاف نہیں ،کل کے اجلاس میں اعتماد کی قرار داد میں نے پیش کی تھی۔ صدارتی نظام سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ صدارتی نظام کی بات لغو اور بے معنی ہے ، صدارتی نظام آئینی ترمیم کے بغیر کیسے آسکتا ہے اس کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو کوئی بھی نہیں چھیڑ رہا۔ مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل کے فیصلے پر اس وقت بی جے پی اور کانگریس میں جنگ کی سی کیفیت ہے۔بھارتی میڈیا کا بھی کہنا ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو مودی نے کیا حاصل کیا،پابندیاں تو 2005 سے عائد ہیںانہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ایک بار پھر پاکستان کو فتح دی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply