وفاقی حکومت نے گوادر کے لیے ایک جامع بیٹری بیکڈ پاور سسٹم کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وفاقی حکومت نے گوادر کے لیے ایک جامع بیٹری بیکڈ پاور سسٹم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت فروری یا مارچ 2027 تک گوادر شہر کو 100 فیصد قابلِ اعتماد اور بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ گوادر کی اہم تنصیبات کو مستقل بجلی کی فراہمی یقینی بنائے گا۔سینیٹر جان محمد کے سوال کے جواب میں …

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وفاقی حکومت نے گوادر کے لیے ایک جامع بیٹری بیکڈ پاور سسٹم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت فروری یا مارچ 2027 تک گوادر شہر کو 100 فیصد قابلِ اعتماد اور بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ گوادر کی اہم تنصیبات کو مستقل بجلی کی فراہمی یقینی بنائے گا۔سینیٹر جان محمد کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ایوان کو بتایا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر گوادر کی آئندہ چار سے پانچ برس کی متوقع ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اس وقت علاقے میں بجلی کی طلب تقریباً 40 سے 50 میگاواٹ ہے۔

وزیرِ توانائی کے مطابق نئے نظام میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کو کم لاگت بیک اپ جنریشن کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ بیرونی ذرائع سے فراہمی میں تعطل کی صورت میں بھی بجلی کا تسلسل برقرار رہے۔ یہ فریم ورک قومی گرڈ پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر کام کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ گوادر کو اس وقت دو بنیادی ذرائع سے بجلی مل رہی ہے، ایک ایران سے درآمد اور دوسرا پاکستان کے قومی گرڈ سے فراہمی۔ ایران کے ساتھ موجودہ معاہدے کے تحت پاکستان مخصوص مقدار میں بجلی خریدنے کا پابند ہے، بصورتِ دیگر مالی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیں۔ ایران سے بجلی دو ٹرانسمیشن پوائنٹس کے ذریعے جنوبی گوادر اور شمالی مکران کو فراہم کی جاتی ہے۔تاہم ایرانی سپلائی میں تکنیکی اور موسمی وجوہات کی بنا پر تعطل اور وولٹیج میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس سے مکران ڈویژن میں گرڈ کا استحکام متاثر ہوتا رہا۔ اگرچہ گوادر اور مکران قومی گرڈ سے بھی منسلک ہیں، لیکن 600 کلومیٹر سے زائد فاصلے کے باعث بالخصوص پیک اوقات میں وولٹیج ڈراپ کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔

وزیرِ توانائی نے وضاحت کی کہ ایران اور قومی گرڈ کی بجلی کو بیک وقت نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ تکنیکی ہم آہنگی اور فریکوئنسی کے مسائل حائل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹرانسمیشن نظام کی اپ گریڈیشن کی تجاویز زیرِ غور آئیں، مگر کم طلب اور طویل لاگت ریکوری مدت کے باعث انہیں معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں سمجھا گیا۔سردار اویس لغاری نے بتایا کہ نیا بیٹری بیکڈ نظام سابقہ تجاویز، بشمول چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مجوزہ 300 میگاواٹ کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹ کی جگہ لے گا۔ ان کے مطابق 300 میگاواٹ منصوبہ گوادر کی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا اور اس سے صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہو جاتی۔

دریں اثنا وزیر نے بتایا کہ حکومت نے حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے گزشتہ آٹھ سے نو ماہ کے دوران صوبے میں تقریباً 28 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا ہے، جس پر تقریباً 55 ارب روپے لاگت آئی۔ اس اقدام سے قومی گرڈ کو سالانہ 35 سے 36 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسابقتی بجلی مارکیٹ کے نظام کی جانب منتقل ہو چکا ہے، جس کے تحت آئندہ بجلی کی خریداری براہِ راست سرکاری معاہدوں کے بجائے مسابقتی سپلائرز کے ذریعے کی جائے گی۔وزیرِ توانائی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ گوادر کا نیا بیٹری بیکڈ پاور فریم ورک گوادر میں پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہ نظام 2027 کے اوائل تک فعال ہونے کی توقع ہے۔