اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اورایران کے وزیرِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ مذاکرات کو تعمیری اور مستقبل پر مبنی قرار دیا گیا جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان …
وفاقی وزراراناتنویرحسین ،جام کمال خان اور ایرانی وزیر کے درمیان اعلی سطح کا اجلاس، زرعی وغذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اورایران کے وزیرِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ مذاکرات کو تعمیری اور مستقبل پر مبنی قرار دیا گیا جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی ہم آہنگی اور جغرافیائی قربت پر مبنی ہیں۔
دونوں جانب سے باہمی روابط پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور زرعی و غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کے لیے غذائی تحفظ، دیہی ترقی اور معاشی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے تکنیکی تعاون کو فروغ دینے، مہارتوں کے تبادلے ، متعلقہ محکموں اور تحقیقی اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ایران کے وزیرِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ نے پاکستان کی زرعی ترقی کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور باغبانی، لائیو اسٹاک، فصلوں کے انتظام اور جدید زرعی طریقوں میں قریبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور باقاعدہ ادارہ جاتی مکالمے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے نمایاں فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے بہتر رابطہ کاری، طریقۂ کار میں سہولت اور عملی سطح پر ہم آہنگی کے ذریعے تعاون کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل رابطے اور باہمی افہام و تفہیم سے دوطرفہ تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔وزراء نے موجودہ معاہدوں کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جن میں ویٹرنری صحت کے شعبے میں اشتراک اور پودوں کے تحفظ و قرنطینہ سے متعلق تعاون شامل ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ طے شدہ معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد اور زیرِ التوا ادارہ جاتی امور کو جلد حتمی شکل دینا ضروری ہے تاکہ پیش رفت کا تسلسل برقرار رہے۔اجلاس میں زرعی تبادلے، مشترکہ تحقیق، استعدادِ کار میں اضافے اور کسانوں و زرعی کاروباری حلقوں کی سہولت کاری سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز کے پیشِ نظر پانی کے تحفظ، اعلیٰ قدر فصلوں کی پیداوار، لائیو سٹاک کی بہتری اور پائیدار زرعی طریقہ کار کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
وزراء نے باقاعدہ روابط، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور طے شدہ اقدامات کے مربوط نفاذ کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں جانب سے اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں قریبی اشتراک پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید فروغ دے گا اور علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی میں مثبت کردار ادا کرے گا۔









