اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاکستانی شہری شاکر اللہ کی بھارت کی جیل میں ہلاکت کا معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھایا ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف پاکستان میں ایف آئی آر درج کرانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بھارت نے ہمیں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں دی، پارلیمنٹ قرارداد منظور کرے تو …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاکستانی شہری شاکر اللہ کی بھارت کی جیل میں ہلاکت کا معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھایا ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف پاکستان میں ایف آئی آر درج کرانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بھارت نے ہمیں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں دی، پارلیمنٹ قرارداد منظور کرے تو شاکر اللہ کے خاندان کو حکومت معاوضہ فراہم کر دے گی۔ بدھ کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاکر اللہ کا پاکستان میں پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے، بھارت نے ہمیں اس کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں دی، ہم نے تحریری طور پر آئی سی آر سی کو بھی شکایت کر دی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی حالت جاننے کے لئے 2013ءسے پہلے ایک مشترکہ جوڈیشل کمیٹی کا طریقہ کار موجود تھا لیکن 2013ءکے بعد وہ فعال نہیں رہی، اس کمیٹی میں دو بھارت کے ریٹائرڈ جج اور دو پاکستان کے ریٹائرڈ جج ہوتے تھے جو دونوں ممالک کی جیلوں میں اپنے اپنے ملک کے قیدیوں کی حالت جاننے اور ان کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھ سے اس حوالے سے کمیٹی کو فعال کرنے کے لئے رپورٹ طلب کی ہے جو آج (جمعرات) کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے بھارتی جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے حوالے سے قانونی رائے بھی لی ہے اور قانون کے تحت ہم ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ شاکر اللہ پاکستان کا شہری ہے، ہم مشترکہ جوڈیشل کمیٹی کو بھی فعال کریں گے۔








