اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ ملک سے ہیپاٹائٹس کے تناسب میں کمی کے لیے حکومت نے مناسب عملی اقدامات کیے ہیں۔ پیر کو پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آنے والے ممالک میں پاکستان بھی ایک ہے …
وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑکی پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ ملک سے ہیپاٹائٹس کے تناسب میں کمی کے لیے حکومت نے مناسب عملی اقدامات کیے ہیں۔ پیر کو پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آنے والے ممالک میں پاکستان بھی ایک ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیشنل ہیپاٹائٹس اسٹریٹجک فریم ورک 2017ءشروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءمیں کیے جانے والے نیشنل ہیپاٹائٹس سروے کے مطابق پاکستان میں 12لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کا کردار صوبوں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ پالیسی سازی اور تعاون کی فراہمی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پالیسی کے مطابق ہم نے عزم کیا کہ پاکستان کو اس بیماری سے چھٹکارے کے لیے بہتر سمت کا تعین کرنا ہو گا جس کے لیے ہم نے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کیں تاکہ 2030ءتک اس بیماری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت سے متعلق سہولیات میں محفوظ خون کی منتقلی کو یقینی بنائے جانے سمیت انفیکشن کنٹرول کے طریقوں کو بھی مذید سخت کرنے پر کام کر رہی ہے۔








