اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) حکومت تعلیمی اہداف حاصل کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے 12ویں انٹر پراونشل منسٹرز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے وزراءتعلیم کی کانفرنس کی جا رہی ہی، بدھ کو اسلام آباد میں …
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا 12ویں انٹر پراونشل منسٹرز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) حکومت تعلیمی اہداف حاصل کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے 12ویں انٹر پراونشل منسٹرز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے وزراءتعلیم کی کانفرنس کی جا رہی ہی، بدھ کو اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کی نمائندگی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم قومی معاملہ ہے اس لئے کسی سیاست کے بغیر اس کانفرنس میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ کو 18ویں ترمیم میں تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس کے باوجود سندھ نے تعلیمی کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ شفقت محمود نے کہا کہ وہ 16مارچ کو کراچی جا رہے ہیں اور اس دفعہ دوبارہ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر تعلیم سندھ سے ملاقات کریں گے اور کانفرنس میں ان کی شرکت نہ کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔ کانفرنس کے حوالہ سے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں یونیفارم ایجوکیشن کیلنڈر متعارف کرانا چاہتے ہیں کیونکہ مختلف یونیورسٹیوں اور بورڈز میں امتحانات مختلف اوقات میں منعقد ہوتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں یونیفارم ایجو کیشن کیلنڈرزکے تحت ایک ہی وقت میں امتحانات منعقد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے چار سے پانچ سالوں میں شرح خواندگی 58 فیصد سے 70 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لٹریسی ریٹ بڑھانا ایک مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ ڈیڑھ کروڑ بچوں کو سکولوں میں داخل کرنا ہے ۔یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ کرنا چاہتے ہیں اس کیلئے ان کی پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشنز اور وفاق المدارس کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ یکساں نصاب کیلئے قومی نصابی کمیٹی پہلے تشکیل دی تھی اس کے ساتھ ٹیکینکل کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو نئے نصاب کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب سکولوں میں ماڈرن ٹیکنالوجی کو بھی پڑھایا جائے گا اور اسلامی تعلیمی اداروں میں بھی یہ نصاب لاگو کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے نصاب کے حوالے سے ہدف حاصل کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ اس میں بہت سارے اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں مگر ہم ایک سال کے اندر اس پر اتفاق کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کو انرول کرنے کےلئے پروگرام اسلام آباد سے شروع کر دیا ہے اور اپریل میں خیبر پختونخوا میں یہ ڈرائیو شروع کر رہے ہیں۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی مسائل کے حل کیلئے جلد تمام صوبوں کی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں تمام مسائل کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔








