اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں آگے لانے کیلئے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وہ جمعہ کو نیوٹیک اور ٹیوٹ سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام ماسٹر ٹریننرز میں تقسیم سرٹیفکیٹ اور جینڈر اسسمنٹ رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے …
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کا تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں آگے لانے کیلئے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وہ جمعہ کو نیوٹیک اور ٹیوٹ سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام ماسٹر ٹریننرز میں تقسیم سرٹیفکیٹ اور جینڈر اسسمنٹ رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین تعلیم کے میدان میں مردوں سے بہت آگے ہیں، یونیورسٹیز میں 80 فیصد نمایاں پوزیشنیں خواتین ہی لیتی ہیں لیکن اس کے باوجود جاب مارکیٹ میں ان کا تناسب بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ وجوہات تلاش کرنی ہیں جس کی وجہ سے یہ خواتین جاب مارکیٹ میں نہیں آتیں۔ انہوں نے کہاکہ جب ایک ملک کی آدھی آبادی اس کی تعمیر وترقی میں حصہ ہی نہیں لے رہی تو کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ملک تیزی سے ترقی کرے۔ شفقت محمود نے کہا کہ ہمارا معاشرتی نظام خواتین کی ملازمت کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا لیکن طب اور تعلیم کے ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ان دائروں کی وسعت کو بڑھانا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ افواج پاکستان خواتین کو آگے لانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے، ہماری خواتین پائیلٹ بھی ہیں، ڈاکٹرز بھی ہیں اور آفیسرز بھی ہیں۔ اسی طرح دیگر شعبوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کیلئے ورکنگ انوائرمنٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے چائلڈ کیئر سنٹرز، میڈیکل لیو، ورکنگ ویمن ہاسٹلز، سفری سہولیات اور ہراسگی کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر جین فرینکوس نے کہا کہ صنفی مساوات کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ممکن نہیں جب اس کی آدھی آبادی اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ ہی نہیں لے رہی تو کیسے ممکن ہے کہ وہ ملک ترقی کرے۔ اس کیلئے خواتین کی ہر شعبے میں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ رکن قومی اسمبلی عندلیب عباس نے رپورٹ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں خواتین کو ترقی دینے کیلئے قانون سازی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سکل ڈویلپمنٹ سے انہیں معاشرے میں بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرد کو تعلیم دلانا صرف اسی تک محدود ہوتا ہے لیکن ایک خاتون کو تعلیم دینا پورے خاندان کو تعلیم دینے کے برابر ہے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم وجیہہ اکرم، نیوٹیک کے چیئرمین سید جاوید حسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر خان، جی آئی جیز اور آسٹریلوی ٹیوٹ سیکٹر کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔







