ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد گوگل اور ایپل نے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا کر دیا

واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخطوں کے بعد سرچ انجن گوگل اور ایپل میپس نے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا کر دیا ہے۔یو ایس اے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق گوگل اور ایپل میپس نے خلیج میسیکو کے لئے ’’خلیج امریکا‘‘ کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل نے کہا کہ اس کے پاس ایسے معاملات پر امریکی …

واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخطوں کے بعد سرچ انجن گوگل اور ایپل میپس نے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا کر دیا ہے۔یو ایس اے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق گوگل اور ایپل میپس نے خلیج میسیکو کے لئے ’’خلیج امریکا‘‘ کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل نے کہا کہ اس کے پاس ایسے معاملات پر امریکی حکومت کے احکامات کی پیروی کرنے کی ’’دیرینہ روایت‘‘رہی ہے۔

یہ گوگل کے احکامات پر عمل کرنے اور سمندر کا نام تبدیل کرنے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔قبل ازیں اس سمندر کا نام دی گلف آف میکسیکو 16ویں صدی سے استعمال ہو رہا تھا۔ امریکی حکومت نے گلف آف میکسیکو کے نئے نام گلف آف امریکا کرنے کے لئے اپنے سرکاری نقشے کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے جبکہ گوگل نے رواں ہفتے کے آغاز میں اپنی گوگل میپس ایپ میں تبدیلی کرکے ا س پر عملدرآمد کیا اور ایپل میپس نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

اب تک ایپل اور گوگل نے اپنے نقشوں میں گلف آف میکسیکو کانا م بدل کر گلف آف امریکا کر دیا ہے، لیکن مائیکروسافٹ کے بنگ نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے ۔ سی نیٹ کے ذریعہ شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، مائیکروسافٹ جلد ہی اس تبدیلی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مائیکرو سافٹ امریکا میں جغرافیائی ناموں کے انفارمیشن سسٹم کے نام کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لئے بنگ میپس کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے، جس میں امریکی حدود میں خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا کرنا شامل ہے۔ ایپ میپس نے اس تبدیلی کو صرف امریکا میں لاگو کیا ہے اور دوسرے ممالک میں پرانا نام دکھایا جا رہاہے ۔

اس فیصلے نے ملے جلے رد عمل کو جنم دیا ہے، بہت سے لوگوں نے نام کی تبدیلی کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے۔تاہم امریکی انتظامیہ نے سمندر کے نام کی تبدیلی کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ یہ اقدام پانیوں پر امریکا کے اثر و رسوخ کی بہتر عکاسی کرتا ہے۔ میکسیکو نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یکطرفہ طور پر دونوں ممالک کے مشترکہ پانی کا نام تبدیل نہیں کر سکتا۔ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کے حکم کی تعمیل کرنے پر گوگل کی تعریف کی ہے جبکہ ایپل کو فوری طور پر اس کی پیروی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔