ٹوکیو اولمپکس میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والی ایتھلیٹ بیتھ ڈوبن بستر تک محدود
ٹوکیو اولمپکس میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والی ایتھلیٹ بیتھ ڈوبن بستر تک محدود، روزانہ 22 گھنٹے آرام پر مجبور

مزید خبریں
لندن۔16اکتوبر (اے پی پی):انگلینڈ کی سابق اولمپک ایتھلیٹ بیتھ ڈوبن ایک ایسی پیچیدہ اور دائمی بیماری میں مبتلا ہیں جس نے ان کی زندگی مکمل طور پر بدل دی ہے۔ بی بی سی کے مطابق32 سالہ انگلینڈ کی سابق اولمپک ایتھلیٹ بیتھ ڈوبن سپرنٹر اب روزانہ 22 گھنٹے سے زائد وقت بستر پر گزارتی ہیں اور صرف کھانے اور بیت الخلا جانے کے لئے اٹھ پاتی ہیں۔بیتھ ڈوبن نے 5 سال قبل ٹوکیو اولمپکس میں انگلینڈ کی نمائندگی کی تھی، تاہم اب وہ مائیالجک انسیفالومائیلائٹس (ایم ای) نامی بیماری سے نبرد آزما ہیں۔ یہ ایک دائمی مرض ہے جس میں شدید تھکاوٹ، نیند کی خرابی، یادداشت اور توجہ کے مسائل، درد اور جسمانی کمزوری جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ معمولی جسمانی یا ذہنی سرگرمی بھی مریض کی حالت کو کئی دنوں یا مہینوں تک بگاڑ سکتی ہے۔بیتھ ڈوبن کے مطابق ان کی بیماری کا آغاز 2021-22 کے موسم سرما میں کووڈ اور غدود کے بخار کے مسلسل انفیکشن کے بعد ہوا۔ ابتدا میں علامات معمولی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی صحت خراب ہوتی گئی۔
اس کے باوجود انہوں نے عالمی چیمپئن شپ، دولتِ مشترکہ کھیلوں اور یورپی چیمپئن شپ میں حصہ لیا۔ یورپی چیمپئن شپ کے دوران وہ سٹارٹنگ بلاکس پر اپنی ٹانگوں میں احساس ختم ہونے کے باعث غلط آغاز کی مرتکب ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ مختلف ماہرین سے معائنے کے باوجود ان کی بیماری کی تشخیص میں وقت لگا۔ اب تک اس مرض کا کوئی مستند علاج یا مخصوص دوا دستیاب نہیں جبکہ مریضوں کو مختلف علامات پر قابو پانے کے لیے ادویات اور معاون نگہداشت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ڈوبن بیتھ کا کہنا ہے کہ یہ بیماری محض تھکاوٹ نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اپنی صحت، خودمختاری، ملازمت اور ورزش کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ رواں سال وہ صرف 5 مرتبہ گھر سے باہر نکل سکی ہیں۔ان کے والدین بھی بیٹی کی حالت پر شدید پریشان ہیں۔
والد جم ڈوبن کے مطابق وہ اپنی بیٹی کی مدد کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، لیکن علاج کی محدود سہولتوں کے باعث بے بسی محسوس کرتے ہیں۔ والدہ جین ڈوبن نے کہا کہ خاندان کو ہر روز یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ڈوبن بیتھ کی حالت کیسی ہوگی اور مستقبل میں ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔بیتھ ڈوبن کی چھوٹی بہن فے ڈوبن نے بھی بیماری کے بارے میں آگاہی اور تحقیق کے لئے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے یارکشائر میراتھن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے ذریعے ایم ای ریسرچ یو کے کے لئے عطیات جمع کیے جائیں گے۔ برطانیہ میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 4 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، تاہم بعض اندازوں کے مطابق اصل تعداد 10 لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
ڈوبن بیتھ کے مطابق کووڈ کے بعد طویل کووڈ سے متعلق تحقیق میں اضافے نے اس بیماری پر بھی توجہ بڑھائی ہے، جس سے انہیں مستقبل میں بہتر علاج کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کہانی اس لئے بیان کر رہی ہیں تاکہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی مشکلات کو سمجھا جائے اور انہیں سستی یا کاہلی کا شکار قرار دینے کے بجائے ان کی حالت پر یقین کیا جائے۔ ان کے بقول، ایک کھلاڑی کی اچانک کھیل سے دوری اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ یہ بیماری محض تھکاوٹ سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔







