لاہور۔14مارچ (اے پی پی):قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید، مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شف نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کا انتخاب کسی ایک شخص کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ عمل سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کی باہمی مشاورت سے مکمل کیا جاتا ہے، میچ کی پلیئنگ الیون کا حتمی اختیار کوچ اور کپتان کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ میدان میں وہی ٹیم کو …
ٹیم کا انتخاب کسی ایک شخص کا فیصلہ نہیں، یہ سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کی مشاورت سے کیا جاتا ہے،سلیکشن کمیٹی پی سی بی
لاہور۔14مارچ (اے پی پی):قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید، مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شف نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کا انتخاب کسی ایک شخص کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ عمل سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کی باہمی مشاورت سے مکمل کیا جاتا ہے، میچ کی پلیئنگ الیون کا حتمی اختیار کوچ اور کپتان کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ میدان میں وہی ٹیم کو لڑاتے ہیں۔یہ بات انہوں نےقذافی سٹیڈیم لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پاکستان ٹیم کو بہت امیدیں وابستہ تھیں لیکن ٹیم اس طرح کی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جیسی توقع کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امید تھی کہ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرے گی تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ کسی بھی میچ کی پلیئنگ الیون کا فیصلہ کوچ اور کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے، سلیکٹرز کو اس بات کا کوئی شوق نہیں کہ وہ بیٹھ کر حتمی گیارہ کھلاڑیوں کا فیصلہ کریں۔انہوں نے کہاکہ ورلڈ کپ کے دوران پلیئنگ الیون کے فیصلے کا حق بھی کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور وہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ کون سا کھلاڑی کیوں نہیں کھیلا۔عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیم کے انتخاب کے عمل میں کوچ کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز جیتی تھی اور اس دوران وہ خود بھی تین سے چار ماہ تک کوچنگ سٹاف کا حصہ رہے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ورلڈ کپ سے پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کی فارم اور کارکردگی کا بہتر اندازہ ہوسکے، اس وقت سلیکٹرز نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کے تین مختلف فارمیٹس ہیں ، کسی ایک پرفارمنس کی بنیاد پر نہ تو کسی کھلاڑی کو فوری ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے باہر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی میچ کے لیے کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کوچ اور کپتان ہی حتمی کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ورلڈ کپ کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ٹیم توقعات پر پورا نہیں اترسکی حالانکہ سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان صرف ایک میچ ہارا جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا جس کے بعد ٹیم رن ریٹ کی بنیاد پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف شکست کا دکھ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس مقابلے کی اہمیت سب کے لیے بہت زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے سری لنکا کے خلاف میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میچ میں وکٹ ایسی تھی جس پر کسی بھی ٹیم کے لیے کم سکور پر آئوٹ ہونا تقریبا ناممکن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ، ٹیم نے جنوبی افریقا کو جنوبی افریقا میں اور آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں شکست دے کر اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔بنگلادیش کے خلاف سیریز کے حوالے سے عاقب جاوید نے وضاحت کی کہ کسی کھلاڑی کو ڈراپ نہیں کیا گیا بلکہ چند سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا تاکہ نئے کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا اس وقت مکمل فٹ نہیں ۔ایک سوال کے جواب میں عاقب جاوید نے کہا کہ موجودہ دور میں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے فاسٹ بولرز دوبارہ پیدا ہونا مشکل ہے،
اس وقت دنیا میں بھارت کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کے علاوہ ایسا کوئی بولر نہیں جسے کھیلنا انتہائی مشکل سمجھا جائے۔ سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان کے پاس وکٹ کیپنگ کے لیے کئی اچھے آپشن موجود ہیں، پائپ لائن میں تین سے چار وکٹ کیپرز شامل ہیں جن میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر شامل ہیں جبکہ غازی غوری کی حالیہ فارم بھی اچھی رہی اور انہیں بطور ڈویلپمنٹ پلیئر اچھا آپشن سمجھا جارہا ہے، ان کے علاوہ شامل حسین نے بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی ۔ مصباح الحق نے کہا کہ سلیکٹرز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان ٹیم کو کس پوزیشن پر کس طرح کے کھلاڑی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں پر مکمل توجہ دے رہے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے و ہ قومی کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔









