بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی اور بنیادی حقوق کا احترام کرے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی اور بنیادی حقوق کا احترام کرے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے ۔دونوں ممالک کو ایل او سی اور ورکنگ باونڈریز پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ دونوں ملکوں میں امن کی بحالی کیلئے کردار …

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی اور بنیادی حقوق کا احترام کرے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے ۔دونوں ممالک کو ایل او سی اور ورکنگ باونڈریز پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ دونوں ملکوں میں امن کی بحالی کیلئے کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں، افغانستان میں امن کی بحالی میں پاکستان کا اہم کردار ہے،کرتار پور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے اس سے خطے میں امن کو فروغ ملے گا پاکستان قبل بھروسہ شراکت دار اور عالمی برادری کا زمہ دار رکن ہے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں پاکستان کے عزم کو سراہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی اور بنیادی حقوق کا احترام کرے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم نے پیشکش کی ہے کہ اگر فریقین متفق ہوں تو ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔کرتار پور راہداری کو سراہتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے اور اس خطے میں امن کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کا ذمہ دار ملک ہے ،اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگیوں میں پاکستان کی بھر پور حمایت کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ انکا حالیہ دورہ محدود وسائل اور کئی چیلنجوں کے باوجو گزشتہ چالیس سے سال سے کھلے دل سے پاکستان کی افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا اعتراف ہے ۔دنیا بھر میں یو این امن دستوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستانی مر و خواتین دنیا بھر میں تعینات امن دستوں میں پورے ولولے اور عزم سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور پاکستان کی ان کوششو ں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک محفوظ شہر بن گیا ہے۔اسلامو فوبیا کیخلاف سخت جنگ کی ضرورت ہے،نفرت آمیز تقاریر اسلامو فوبیا کی بنیادہ وجہ ہے،ہم پاپولزم کی تمام شکلوں کیخلاف لڑنے کیلئے پر عزم ہیں۔سیاسی حل اور مستقل جنگ بندی افغانستان میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔امن عمل کی کامیابی سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی میں تیزی آئیگی۔سیکرٹری جنرل نے توقع ظاہر کی پاکستان ہمسایہ ملک میں پائیدار امن کیلئے اپنا اہم کردار جاری رکھے گا۔انتونیو گوترس نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خاتمے کیلئے پاکستان نے موثر اقدام کیے ہیں، بطور سیکرٹری جنرل پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محمد علی جناح کے نظریے اور علامہ اقبال کے افکار کا آئینہ دار ہے، پاکستانی افغان مہاجرین کیلئے بڑے دل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جو مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان مہاجرین کی آبادی کیلئے بااعتماد میزبان ہے، پاکستان کا عالمی امن مشنز میں بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایل او سی اور ورکنگ باونڈریز پر تحمل کا مظاہرہ کریں،دونوں ملکوں میں امن کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں پاکستان کے عزم کو سراہتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے چینی حکومت بہتر اقدامات کر رہی ہے۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل کیساتھ ملاقات انتہائی دلچسپ رہی اور مقبوضہ کشمیر سیت تمام معاملات زیر بحث لائے گئے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یو این سیکرٹری جنرل کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت میںمسلمانوں سمیت اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک کو اجاگر کیا ۔افغان مہاجرین کیلئے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان عمل کے لئے کوشاں ہے،عالمی طاقتیں افغان امن عمل کیلئے پاکستان کے کردار کو ضروری سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 200دن سے لاک ڈائون جاری ہے، سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ بھارت کے ساتھ 2003ء کے فائر بندی معاہدے کو یقینی بنائے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کمیشن کو رسائی دی جائے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے عالمی برادری کے تعاون سے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کی حمایت کی ہے۔وزیر خارج نے کہا کہ انہوں نے یو این سیکرٹری جنرل سے کہا ہے کہ ایل او سی پر یو این فوجی مبصرین کی آذادانہ نقل و حرکت ہونا چاہیئے جیسا کہ انہیں پاکستانی علاقے میں وہ کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سیکرٹری جنرل کیساتھ موجودہ حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح کیلئے احساھ پروگرام، صحت پروگرام اور پائیدار اقتصادی اہداف سمیت سماجی و اقتصادی اقدامات کو بھی شیئر کیا۔

مزید خبریں