چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کو قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑے مشترکہ ثقافتی ورثے اور تاریخی مماثلتوں کو مزید اجاگر کرتے ہوئے اس شعور کو نوجوان نسل تک منتقل کرنا چاہیے
پاکستان اور چین قدیم شاہراہِ ریشم کے مشترکہ ثقافتی ورثے کو نوجوان نسل تک منتقل کریں، محمد ضمیر اسدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کو قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑے مشترکہ ثقافتی ورثے اور تاریخی مماثلتوں کو مزید اجاگر کرتے ہوئے اس شعور کو نوجوان نسل تک منتقل کرنا چاہیے۔بدھ کوبین الاقوامی ثقافتی نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی مختلف ثقافتوں کے درمیان مماثلتوں اور تاریخی روابط کو تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل مشترکہ تاریخ اور تہذیبی اقدار سے آگاہ ہو سکے۔ محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ ان میں پاکستان کے ٹیکسلا میوزیم کے نوادرات سے مماثلت پائی جاتی ہے، جو پاکستان اور چین کے درمیان گہرے تاریخی و ثقافتی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین دونوں قدیم شاہراہِ ریشم کے راستے پر واقع ہیں اور دونوں ممالک کی تاریخ میں بہت سی مشترکہ داستانیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیسکو کے مطابق ٹیکسلا شاہراہِ ریشم کی اس شاخ پر واقع تھا جو چین کو مغرب سے ملاتی تھی، جبکہ مگاغاؤ غاروں کے فن پاروں میں گندھارا تہذیب کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک عظیم تاریخی اور تہذیبی ورثہ موجود ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے گندھارا تہذیب کے آثار سے لے کر لاہور کے تاریخی مقامات تک اہم ورثہ شامل ہے۔ پاکستان نے جولائی میں گندھارا ورثے کے سیاحتی فروغ کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی تھی۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل تاریخی ورثے کے تحفظ اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاریخ کی اہمیت سے آگاہ نوجوان اپنی تہذیبی اقدار کے محافظ بن کر اس ورثے کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی مماثلتوں کو قریب سے دیکھنے کے لیے چینی عوام کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے، جہاں وہ تاریخی نوادرات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کوششوں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔







