اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ "یونیسف” نے جنوبی یمن کی گورنری لحج میں واقع السقياء صحت مرکز پر ہونے والے حملے پر محض تشویش کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا، جس کے نتیجے میں طبی عملے کے ارکان سمیت پانچ افراد جان بحق ہو گئے تھے
یمن ،لحج میں طبی مرکز پر حوثی حملے کے بعد اقوامِ متحدہ کا اظہار تشویش

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔4نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ "یونیسف” نے جنوبی یمن کی گورنری لحج میں واقع السقياء صحت مرکز پر ہونے والے حملے پر محض تشویش کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا، جس کے نتیجے میں طبی عملے کے ارکان سمیت پانچ افراد جان بحق ہو گئے تھے، جبکہ ادارے کے بیان میں نہ تو حملے کی مذمت کی گئی اور نہ ہی اس کی ذمہ دار فریق کی نشاندہی کی گئی۔العربیہ کے مطابق ادارے نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر شائع کردہ ایک مختصر بیان میں کہا کہ جس حملے میں رپورٹس کے مطابق پانچ افراد جاں بحق ہوئے، وہ "ایک ایسا معاملہ ہے جو تشویش کا باعث ہے”۔یہ مرکز اس ادارے کے زیرِ اہتمام ہے اور بچوں سمیت تقریباً 1,737 افراد کو بنیادی صحت کی نگہداشت کی خدمات فراہم کر رہا تھا۔ادارے نے تمام اوقات میں طبی تنصیبات، عملے اور عام شہریوں کے تحفظ کی ضرورت، اور بچوں و خاندانوں کی ان خدمات تک محفوظ رسائی کی ضمانت پر زور دیا۔یہ بیان یمنی وزارتِ صحت کی جانب سے پیر کے روز دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ المضاربہ ڈائریکٹوریٹ کے علاقے السُقيّاء میں واقع مرکز پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں تین طبی عملے کے اہلکاروں سمیت پانچ افراد جاں بحق اور طبی عملے کے سات ارکان سمیت 15 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔یمنی وزارت صحت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملہ ان بین الاقوامی اور انسانی قوانین و اصولوں کی فاش خلاف ورزی ہے، جو تنصیبات، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔وزارت صحت نے بین الاقوامی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں، بالخصوص عالمی ادارہ صحت اور ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کی مذمت کریں، اس کی تحقیقات کریں، اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں اور ایسے اقدامات کریں جو صحت کی تنصیبات اور ان کے عملے کے تحفظ کی ضمانت دیں اور اس طرح کے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکیں۔







