یمن کے شہر تعز کی ناکہ بندی سے معمولات زندگی شدید متاثر، امدادی سامان کی ترسیل بھی معطل ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن کے شہر تعز میں داخلے اور باہر نکلنے والی تمام سڑکوں کی بندش سے شہریوں کی روزمرہ زندگی کے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشد ضروری امداد کی ترسیل بھی رک گئی ہے

اقوام متحدہ ۔4نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن کے شہر تعز میں داخلے اور باہر نکلنے والی تمام سڑکوں کی بندش سے شہریوں کی روزمرہ زندگی کے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشد ضروری امداد کی ترسیل بھی رک گئی ہے۔شنہوا نے اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے )کے حوالے سے بتایا کہ تعز گورنریٹ میں ایندھن، آکسیجن، پانی، ادویات، خون اور جراحی کے طبی سامان کی قلت مزید شدت اختیار کر رہی ہے جبکہ زخمی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق یمن میں اگست سے تنازعے میں شدت آنے کے بعد اب تک 27 طبی مراکز اور سات ایمبولینسیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں جبکہ چھ طبی کارکن بھی ہلاک ہوئے ۔یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کے ہسپتالوں میں ایندھن، آکسیجن، خون اور جراحی کے سامان کی کمی کے باعث ہنگامی ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق شہر کے مرکزی زچہ و بچہ ہسپتال میں روزانہ بچوں کی پیدائش کی تعداد تقریباً 10 سے کم ہو کر پانچ رہ گئی ہے جبکہ ایندھن کی قلت کے باعث قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے انکیوبیٹرز کی تعداد 40 سے کم ہو کر صرف 10 رہ گئی ہے۔اوسی ایچ اے کے مطابق یمن میں ہیضے کے مشتبہ کیسز میں مسلسل تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی تاہم خسرے کے 22 ہزار 500 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں ، اس بیماری سے تقریباً 130 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 80 فیصد اموات پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہیں۔اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن میں بڑھتے ہوئے تنازعے کی بھاری قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں اور اگست کے آغاز سے تازہ لڑائی کے باعث تقریباً تین لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اوسی ایچ اے کے مطابق انسانی ہمدردی کے شراکت دار ادارے تقریباً دو لاکھ 60 ہزار افراد تک امداد پہنچا چکے ہیں، تاہم ضروریات میں اضافے کے باعث امدادی سرگرمیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان ترسیل کے لیے تیار ہے لیکن اس مقصد کے لیے سڑکوں کا دوبارہ کھلنا ناگزیر ہے۔ٹام فلیچر نے حوثی تحویل میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے سے وابستہ اہلکار محمد الشامی کی ہلاکت پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے کم از کم 70 اہلکار اور درجنوں دیگر امدادی کارکن اب بھی زیر حراست ہیں۔انہوں نے تمام زیر حراست اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی کے کارکن شہری ہیں اور انہیں سودے بازی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ نے ایک بار پھر تمام فریقوں سے شہریوں کے تحفظ اور متاثرہ آبادیوں تک محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی اپیل کی ۔

مزید خبریں