پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے زیراہتمام عالمی یوم ماحولیات 2026ء کے سلسلے میں راول جھیل پر صفائی مہم

پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے عالمی یوم ماحولیات 2026ء کے سلسلے میں راول جھیل پر صفائی مہم کے دوران بڑی مقدار میں پلاسٹک کچرے، استعمال شدہ سرنجوں اور اسپتال کے خطرناک فضلے کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے ،جسے ماہرین نے ماحول اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے عالمی یوم ماحولیات 2026ء کے سلسلے میں راول جھیل پر صفائی مہم کے دوران بڑی مقدار میں پلاسٹک کچرے، استعمال شدہ سرنجوں اور اسپتال کے خطرناک فضلے کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے ،جسے ماہرین نے ماحول اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ صفائی مہم پاک ای پی اے، نیسلے پاکستان اور محکمہ سمال ڈیمز پنجاب کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں طلبہ، سول سوسائٹی، مقامی کمیونٹی اور نجی شعبے کے رضاکاروں نے شرکت کی۔

شرکا نے راول جھیل کے کناروں اور اطراف سے بڑی مقدار میں ٹھوس فضلہ جمع کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے نے کہا کہ راول جھیل میں ہسپتال کے فضلے اور پلاسٹک کی موجودگی ایک تشویشناک صورتحال ہے جو قدرتی وسائل اور آبی حیات کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست طرز زندگی اپنائیں اور صفائی و تحفظ ماحول کی سرگرمیوں میں مستقل بنیادوں پر حصہ لیں۔ اس موقع پر پاک ای پی اے کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ قدرت نے انسان کو صاف ہوا، صاف پانی اور زرخیز مٹی عطا کی، مگر انسانی سرگرمیوں نے ان نعمتوں کو شدید آلودگی سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، بھٹہ خشت اور کھلے عام کچرا جلانے سے فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے جبکہ صنعتی فضلے اور غیر ٹریٹ شدہ سیوریج کے اخراج سے آبی وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کو صاف اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے بقول راول جھیل جیسے اہم آبی ذخائر کا تحفظ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہ صفائی مہم عالمی یوم ماحولیات 2026ء کے موضوع ’’قدرت سے تحریک، موسمیاتی تحفظ اور ہمارے مستقبل کے لیے‘‘ کے تحت منعقد کی گئی۔

مزید خبریں