اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سخت متاثر ہوا اور ہو بھی رہا ہے، ہلال احمر پاکستان ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہا اور میں نے بھی انسانیت کی خدمت کے اس بے مثال ادارے کی قیادت کی ہے،ڈیزاسٹر کہیں بھی ہو وہ غریب طبقات کا مستقبل چھین لیتا …
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سخت متاثر ہورہا،ڈیزاسٹر کہیں بھی ہو وہ غریب طبقات کا مستقبل چھین لیتا ہے،سینیٹر شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سخت متاثر ہوا اور ہو بھی رہا ہے، ہلال احمر پاکستان ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہا اور میں نے بھی انسانیت کی خدمت کے اس بے مثال ادارے کی قیادت کی ہے،ڈیزاسٹر کہیں بھی ہو وہ غریب طبقات کا مستقبل چھین لیتا ہے، ہم کوپ 30 میں پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کریں گے، ہلال احمر پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈائیلاگ اہمیت کا حامل اقدام ہے،ہمیں پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے ،غربت میں اضافہ،گرمی کی حدت کا بڑھنا،غیر معمولی وغیر متوقع بارشیں،سیلاب،کلائوڈ برسٹ،خشک سالی اور کاربن اخراج سمیت دیگر نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، ہمیں مختلف بیماریوں جیسے ڈینگی ملیریا وغیرہ کا بھی سامنا ہے،ہم نے واٹر مینیجمنٹ،سیوریج،واش اورہائیجین کا خیال رکھنا ہے،ہم تمام متاثرہ طبقات کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔وہ پیر کو ہلال احمر پاکستان کے زیر اہتمام پری کوپ 30 نیشنل ڈائیلاگ سے خطاب کررہی تھیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم آلودگی کے خاتمے،پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے اور شجرکاری میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں اور رضاکاروں کو بیک بون پکارتے ہوئے انہیں چیمپئن آف چینج قرار دیا۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے زیر زمین پانی کی سطح کے کم ہونے،گلیشیئرز کے پگھلنےاور ڈیموں کی تعمیر سمیت دیگر مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کرنا ہے۔ صوبوں کو درپیش مسائل کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول کی بہتری کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار نبھانا چاہیے۔چیئرپرسن فرزانہ نائیک نے پری کوپ نیشنل ڈائیلاگ کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشترکہ اقدامات اور پائیدار شراکت داری پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کوپ 30 سے ہمیں تکنیکی تعاون،مالی مدد اور مختلف شعبوں میں تربیت کی فراہمی کی امید ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں یہ عالمی چیلنج ہے ۔انہوں نے ہلال احمر پاکستان کی ماحول دوست سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ۔اس سے قبل سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبید اللہ خان نے افتتاحی کلمات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک اور مطابقت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بتاتے ہوئے شرکا کو خوش آمدید کہا۔نیشنل ڈائیلاگ پارٹنر جرمن ریڈ کراس کے پاکستان میں سربراہ آصف امان ،آئی ایف آر سی کے ہیڈ فرید عبد القادر اور شعبہ کلائمیٹ چینج کے سجاد قندھیر نے بھی خطاب کیا۔پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر الطاف ابڑو،ماجد بلال،رضا ناریجو،قراۃ العین چیمہ، ضیاء الرحمٰن اور انعم زیب شامل تھے۔فورم کے اختتام پر ہلال احمر پاکستان کی۔چیئرپرسن محترمہ فرزانہ نائیک نے سینیٹر شیری رحمان کو ہلال احمر پاکستان کی یادگاری شیلڈ پیش کی ۔پینل میں شام مندوبین کو بھی یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔








