پاکستان کا بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت ، یہ اقدام سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ

پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کےلئے تمام آپشنز موجود ہیں۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کےلئے تمام آپشنز موجود ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مجوزہ چناب-بیاس لنک ٹنل منصوبہ اور بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں سلال ڈیم پر سلٹ فلشنگ کے منصوبوں سے متعلق اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ نئی دہلی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے ایک ایسے منصوبے کے لئے بڈز طلب کی ہیں جس کا مقصد دریائے چناب سے سالانہ تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کو بیاس میں منتقل کرنا ہے۔

انہوں نے اس اقدام کو سندھ طاس معاہدے، بین الاقوامی آبی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق اور استحقاق کے تحفظ اور اپنے اہم قومی مفادات کے دفاع کےلئے تمام ضروری آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے کہ وہ پاکستان کے قانونی حق کے پانی کے بہائوکو روکنے، کم کرنے یا موڑنے کے منصوبوں سے دستبردار ہوجائے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن اور استحکام کےلئے سنگین نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔

تنازعہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے ایک بار پھر کہا کہ یہ تنازعہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کا حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بھارت میں تعینات سوئس سفیر کے مقبوضہ علاقے کے حالیہ دورے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں سے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرنے کےلئے سوئس حکومت اور وسیع تر عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ترجمان نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، گھروں کی مسماری اور مقامی آبادی کی بے دخلی سے متعلق اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کشمیر کی آبادیاتی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارتکاری کےلئے پرعزم ہے تاہم اسلام آباد افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں بشمول چین اور یورپی یونین کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کےلئے استعمال نہ ہونے کے حوالے سے واضح اور غیر مبہم یقین دہانی ضروری ہے۔ افغانستان کےلئے چین کے خصوصی نمائندے یوئے شیاویونگ کے ساتھ حالیہ مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف تعاون اور رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ خلیجی خطے کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حالات نازک اور تشویشناک ہیں تاہم جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے امید کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی سے متعلق مفاہمت اور امریکہ و دیگر علاقائی فریقین کے درمیان جاری رابطوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاکستان مذاکرات کے فروغ اور امن کی کوششوں کی حمایت کےلئے پرعزم ہے۔اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران سے متعلق انٹیلی جنس معلومات امریکہ کے ساتھ شیئر کی ہیں، ترجمان نے ان دعوئوں کو بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور علاقائی امن، استحکام اور سفارتی حل تھا اور کسی قسم کی خفیہ معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ اگر متعلقہ فریقین درخواست کریں تو پاکستان خطے میں امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کےلئے آئندہ مذاکرات کی میزبانی کےلئے بھی تیار ہے۔

ابراہم معاہدوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف پر بات کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کا موقف تبدیل نہیں ہوا اور یہ 1967سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو دہرایا۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، گورننس اور جی ایس پی پلس فریم ورک سے متعلق امور پر برسلز کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیشرفت کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی عملے کے ارکان کی رہائی کےلئے حکومت بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کی محفوظ رہائی کےلئے صومالی حکام، جہاز کے مالک اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ترجمان نے بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کے حالیہ الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلوچستان میں دہشت گردی کی بھارتی سرپرستی سے متعلق شواہد بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل شیئر کررہا ہے اور کلبھوشن یادیو کا معاملہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کےلئے سفارت کاری، مذاکرات اور پرامن روابط کو فروغ دیتا رہے گا اور وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔