وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا بحری شعبہ بندرگاہوں، لاجسٹکس، بلیو اکانومی منصوبوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے جبکہ ملک کا تزویراتی محل وقوع اور تجارتی روابط میں توسیع اسے سرمایہ کاروں کیلئے مزید پرکشش بناتے ہیں۔
پاکستان کے بحری شعبے میں سعودی سرمایہ کاروں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں، محمد جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا بحری شعبہ بندرگاہوں، لاجسٹکس، بلیو اکانومی منصوبوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے جبکہ ملک کا تزویراتی محل وقوع اور تجارتی روابط میں توسیع اسے سرمایہ کاروں کیلئے مزید پرکشش بناتے ہیں۔ بدھ کو وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان -سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل (جے بی سی) کے چیئرمین منصور بن محمد السعود اور دیگر شرکاء کے ساتھ ہونے والے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے بحری شعبے میں بالخصوص بندرگاہوں، لاجسٹکس، بلیو اکانومی اور معاون انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی شعبوں میں شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ اجلاس میں ملک کی تمام بڑی بندرگاہوں کے چیئرمین، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر، سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نمائندے اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، گوادر پورٹ اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سعودی سرمایہ کار کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے تحت مجوزہ میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ، میرین ورکشاپ منصوبے اور منوڑہ میں ڈرائی ڈاک و فلوٹنگ ڈاک سہولت میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر ایک کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل، ایک مربوط دوسرے آئل ٹرمینل اور سٹوریج فارم کے قیام کے علاوہ انرجی سٹی منصوبے میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ محمد جنید انوار چوہدری نے سعودی سرمایہ کاروں کو پی این ایس سی کے بیڑے میں توسیع اور کورنگی فش ہاربر اتھارٹی میں تقریباً 100 ایکڑ پر محیط ایکوا ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی پارک (اے آر ٹی پارک) کے قیام میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
اجلاس کے دوران سعودی عرب بزنس کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے 140 ایکڑ قیمتی ساحلی شہری اراضی پر مشتمل میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کی اہمیت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ بندرگاہ پر بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) بنیادوں پر ایک مربوط دوسرے آئل ٹرمینل اور سٹوریج فارم کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے۔








