پاک آسٹریلیا تیسرا ون ڈے میچ،صوفی جلیل عرف چاچا کرکٹ ریٹائر ہوگئے

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ کے دوران پاکستان کرکٹ کے معروف اور دیرینہ سپورٹر چاچا کرکٹ عبدالجلیل نے باضابطہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

لاہور۔4جون (اے پی پی):پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ کے دوران پاکستان کرکٹ کے معروف اور دیرینہ سپورٹر چاچا کرکٹ عبدالجلیل نے باضابطہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اعلان کے ساتھ ہی اسٹیڈیم میں جذباتی ماحول پیدا ہو گیا اور شائقین کی بڑی تعداد آبدیدہ ہو گئی۔ چاجا کرکٹ نے سبز ہلالی پرچم تھام کر پوری گرائونڈ کا چکر لگایا اور تماشائیوں نے کھڑے ہوکر چاچا کرکٹ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔پاک آسٹریلیا تیسرا ون ڈے میچ چاچا کرکٹ کیکیئرئر کا آخری ون ڈے میچ تھا ۔اب وہ کرکٹ میچز کے دوران سبز ہلالی پرچم تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کی سپورٹ کرتے نظر نہیں آئیں گے۔77 سالہ عبدالجلیل نصف صدی سے زائد عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ وابستہ ایک نمایاں اور منفرد شناخت رکھتے تھے۔

وہ سبز لباس، قومی پرچم اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ دنیا بھر کے اسٹیڈیمز میں ٹیم کی حمایت کرتے رہے۔ ان کی موجودگی کو پاکستانی کرکٹ جذبے کی علامت سمجھا جاتا رہا۔انہوں نے 1968-69میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے اپنے کرکٹ سپورٹ سفر کا آغاز کیا اور بعد ازاں شارجہ، لندن، میلبرن سمیت دنیا کے بڑے میدانوں میں پاکستان ٹیم کے ہمراہ نظر آئے۔ ان کی شخصیت پاکستانی شائقین کیلئے ایک مستقل حوصلہ اور پہچان رہی۔ریٹائرمنٹ کے اعلان پر شائقین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور چاچا کرکٹ زندہ باد کے نعرے لگائے۔ عبدالجلیل اس موقع پر جذباتی ہو گئے اور کہا کہ پاکستان کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں جو عزت اور محبت ملی وہ ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میدانوں میں نظر نہیں آئیں گے مگر ان کی دعائیں ہمیشہ پاکستان کرکٹ کے ساتھ رہیں گی۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ، سابق و موجودہ عہدیداران، کھلاڑیوں اور دنیا بھر کے شائقین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی ٹیم کی ہر کامیابی ان کے لیے سب سے بڑی خوشی تھی۔چاچا کرکٹ نے 1986 میں جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا، 1992 کا ورلڈ کپ اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیسے تاریخی لمحات دیکھے۔ وہ 1999کے ورلڈ کپ سمیت متعدد عالمی ایونٹس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کے لیے خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور شائقین نے ان کے حق میں بھرپور داد دی۔

مختلف شخصیات اور کرکٹرز نے بھی ان کے لیے انعامات اور معاونت کا اعلان کیا۔کرکٹر محمد رضوان سمیت متعدد افراد نے ان کے لیے اعزازات کا اعلان کیا۔ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالجلیل سیالکوٹ کے قریب کرکٹ میوزیم اور ریسٹورنٹ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں ان کی یادگار اشیا محفوظ کی جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کرکٹ جلد اپنی کھوئی ہوئی کامیابیاں دوبارہ حاصل کرے گی۔چاچا کرکٹ کی ریٹائرمنٹ کو شائقین ایک دور کے اختتام کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ صرف ایک سپورٹر نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جذبے کی علامت بن چکے ہیں۔

 

مزید خبریں