پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی خوش آئند ،فضائی فریٹ چارجز میں بھی کمی کی جائے، کارپٹ ایسوسی ایشن

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی فریٹ چارجز میں بھی اسی طرز پر کمی نا گزیر ہے ،اگر حکومت نے سرپرستی اور معاونت فراہم نہ کی تو پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوںکی صنعت عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ کھو دے گی ۔ ایسوسی ایشن …

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی فریٹ چارجز میں بھی اسی طرز پر کمی نا گزیر ہے ،اگر حکومت نے سرپرستی اور معاونت فراہم نہ کی تو پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوںکی صنعت عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ کھو دے گی ۔

ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر ریاض احمد نے اتوار کوجاری بیان میں کہا کہ 2005-06 میں پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات 278 ملین ڈالرز تھیں جو 2019-20 میںکم ہوکر 67.7 ملین ڈالر زکی سطح پر آ گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عالمی نمائشوں میں شرکت ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کےلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس جانب توجہ مرکوز کی جائے ۔

کورونا وباءمیں سنگل کنٹری نمائشوںکے انعقاد کے لئے پالیسی مرتب کی جائے اور تمام برآمدی مصنوعات کی تشہیر کو یقینی بنایا جائے ۔انہوںنے کہا کہ طورخم کے راستے افغانستان سے خام اور جزوی تیار مصنوعات کی درآمد پر عائد ڈیوٹیز بشمول سیلز ٹیکس کو صفر کیا جائے ،روس، ترکی ، جنوبی امریکہ ،مشرقی یورپ اور دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں میں ہاتھ سے بنے قالینوں پر عائد بھاری امپورٹ ڈیوٹیز پر مذاکرات کر کے انہیں کم کرایا جائے یا آزادانہ تجارت کے معاہدوں میں ان مسائل کو حل کرایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے ہر طرح کے زیر التوا خصوصاًڈی ایل ٹی ایل کی مد میں کلیمز کی ادائیگیاں کی جائیں۔عالمی نمائشوں میں ناکافی تشہیر ،عدم شرکت ،ریفنڈز کے اجرا ءمیں غیر ضروری تاخیر اور کریڈٹ فنانسنگ جیسے مسائل ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی بحالی میں بڑی رکاوٹیں ہیں ۔