چالیس لاکھ فوت شدہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کی وضاحت

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی): الیکشن کمیشن نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی ادارے فوت شدہ افراد کا ڈیٹا فراہم نہیں کر رہے جس کی وجہ سے انتخابی فہرستوں میں فوت شدہ افراد کے ووٹ بھی درج ہیں۔اس حوالہ سے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ 2012سے اب تک مرحلہ بہ مرحلہ ہونے والی انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے دوران …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی): الیکشن کمیشن نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی ادارے فوت شدہ افراد کا ڈیٹا فراہم نہیں کر رہے جس کی وجہ سے انتخابی فہرستوں میں فوت شدہ افراد کے ووٹ بھی درج ہیں۔اس حوالہ سے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ 2012سے اب تک مرحلہ بہ مرحلہ ہونے والی انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے دوران بلدیاتی اداروں اور نادرا کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق تقریبا ً 40 لاکھ سے زائد فوت شدہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی برائے 18-2017 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 8 لاکھ سے زائد اورانتخابی فہرستوں کی نظر ثانی برائے سال20- 2019میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 7 لاکھ 50ہزار سے زائد فوت شدہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس بات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کے متعلقہ حکام کو کہا ہے کہ فوت شدہ افراد کے کوائف الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 43 کے مطابق سہ ماہی بنیاد وں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضلعی الیکشن کمشنر ز یا رجسٹریشن افسران کو مہیا کریں تاکہ قانون کے مطابق تمام فوت شدہ افراد کے ووٹ انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جائیں۔

 

مزید خبریں