اسلام آباد ۔ 09مئی (اے پی پی) چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ (ایس ایم ایز) کے مالی مسائل کے خاتمہ سے شعبہ کی ترقی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے، ایس ایم ایز کی ترقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور برآمدات میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے جس سے ملکی معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ …
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ کے مالی مسائل کے خاتمہ سے اس کی ترقی میں مدد ممکن ہے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 09مئی (اے پی پی) چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ (ایس ایم ایز) کے مالی مسائل کے خاتمہ سے شعبہ کی ترقی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے، ایس ایم ایز کی ترقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور برآمدات میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے جس سے ملکی معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی کاروبار میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ 90 فیصد ہے، غیر زرعی مجموعی افرادی قوت کے 80 فیصد حصہ کا روزگار بھی ایس ایم ایز سے ہی وابستہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک سالانہ مجموعی پیداوار میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا حصہ 40 فیصد ہے۔ کاروباری اداروں کو بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ مجموعی قرضوں میں سے صرف 6 فیصد قرضے ایس ایم ای سیکٹر کو دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے شعبہ کو مالی مسائل درپیش رہتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کے مالی مسائل کے خاتمہ سے شعبہ کی ترقی میں نمایاں مدد حاصل کی جا سکتی ہے جس سے نہ صرف کاروباری و تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو گا بلکہ جی ڈی پی کے ساتھ ساتھ قومی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ کی ترقی سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے جس سے بے روزگاری کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں ایس ایم ایز کے شعبہ کے فروغ سے شہروں کی جانب نقل مکانی کو بھی کم کیا جا سکتا ہے جس سے بنیادی ڈھانچہ کے مسائل کی کمی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔








