چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت سپریم کورٹ آف پاکستان کی بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کی بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس پیر کو سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کراچی کی مجوزہ تعمیر کے لیے ماسٹر لے آئوٹ پلان کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس …

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کی بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس پیر کو سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کراچی کی مجوزہ تعمیر کے لیے ماسٹر لے آئوٹ پلان کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس عامر فاروق، رجسٹرار سپریم کورٹ محمد سلیم خان اور سپریم کورٹ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت سندھ کے چیف انجینئر نے چیف جسٹس آف پاکستان اور بلڈنگ کمیٹی کے اراکین کو سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کراچی کے نئے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ منصوبہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا جس میں عدالتوں، متعلقہ دفاتر، عوامی سہولیات اور وکلاء کے لیے ضروری سہولتوں کی فراہمی شامل ہے۔

اجلاس میں موجودہ مقام پر توسیع کی تجویز پر غور کیا گیا تاہم اسے نہ تو مستقبل کی توسیع کے لیے پائیدار اور نہ ہی قابل عمل قرار دیا گیا کیونکہ پارکنگ ایریا مبینہ طور پر قدرتی برساتی نالے پر تجاوزات کا باعث بن رہا تھا۔ چیف جسٹس نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہر قسم کی ترقیاتی سرگرمیوں کو پائیداری اور طویل المدتی ساختی استحکام کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس بناء پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کو مجوزہ نئے مقام پر منتقل کیا جائے اور قدرتی نالے سے رکاوٹیں دور کرنے کے لیے فوری ہدایات جاری کی گئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے لیے یہ کسی طور مناسب نہیں کہ وہ ایسی کسی تجاوزات کی اجازت دے یا اس کی حوصلہ افزائی کرے، خصوصاً جب یہ عوامی زمین اور ضروری تنصیبات پر ہو۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا اور اعادہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے تمام ترقیاتی منصوبے سختی سے قانونی، ماحولیاتی اور شہری اصولوں کے مطابق ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے منصوبے کا پی سی-ون پلاننگ ڈویژن کو جائزے اور سی ڈی ڈبلیو پی کے روبرو منظوری کے لیے بھجوانے کی ہدایت دی گئی۔

مزید خبریں