اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شریک کھاتہ دار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پورے ترکے کو نظرانداز کر کے صرف کسی ایک قیمتی حصے کی تقسیم کا مطالبہ کرے، کیونکہ جزوی تقسیم کا دعویٰ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے وراثتی جائیداد کی …
کسی بھی شریک کھاتہ دار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پورے ترکے کو نظرانداز کر کے صرف کسی ایک قیمتی حصے کی تقسیم کا مطالبہ کرے،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شریک کھاتہ دار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پورے ترکے کو نظرانداز کر کے صرف کسی ایک قیمتی حصے کی تقسیم کا مطالبہ کرے، کیونکہ جزوی تقسیم کا دعویٰ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک اہم مقدمے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ مقدمے کا نئے سرے سے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔یہ فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریری صورت میں جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تقسیم کے مقدمے میں ہر انچ زمین پر تمام وارثین کا مساوی حق ہوتا ہے اور جائیداد کی تقسیم کا مقصد تمام وارثین کو ان کا جائز حصہ بلا امتیاز فراہم کرنا ہے۔ع
دالت نے واضح کیا کہ جزوی تقسیم کا دعویٰ برقرار رکھنا دیگر شریک مالکان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تمام جائیدادوں کو ایک مشترکہ پول میں رکھ کر ان کی مالیت اور محل وقوع کے مطابق منصفانہ تقسیم کرنا لازمی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی ڈگری جاری کرتے وقت فریقین کے حصص کا تعین نہیں کیا جو قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔مقدمے کے حقائق کے مطابق تین بھائیوں کے درمیان والد کی جانب سے چھوڑے گئے چار مکانات کی تقسیم کا تنازع تھا۔
ایک بھائی نے پورے ترکے کی بجائے صرف ایک ایسے مکان کی تقسیم کا دعویٰ دائر کیا جس پر دوسرے بھائی کا قبضہ تھا۔ ٹرائل کورٹ نے صرف اسی متنازع مکان کی تقسیم کا حکم دیا جسے بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ تمام جائیداد کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق ازسرنو فیصلہ کیا جائے۔








